سرینگر13فروری /سی این ایس / ضلع بڈگام کے گوپال پورہ چاڈورہ میں شبانہ تصادم آ رائی میں میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو مقامی جنگجو مارے گئے ۔ جنگجومخالف کارروائی کے دوران علاقہ میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ۔جھڑپ کے ساتھ ہی افواہ بازی اور امن وقانوں کی صورت حال برقرار رکھنے کے لئے بڈگام ضلع کے تحت آنے والے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کر دیا ہے۔ سی این ایس کے مطابق جنگجووٗں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر مصدقہ اطلاع ملتے ہی فوج ،فورسزاورایس اؤجی اہلکاروں نے دوران شب ہی واتھورہ گوپالپورہ چاڈورہ میں کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لے لیاجس کے دوران ایک دو منزلہ مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے باہر آ کر محاصرہ توڑکرفرارہونے کی کوشش کی اور فورسز اہلکاروں پرگولی باری شروع کردی۔ جنگجوؤں کی فائرنگ کے بعدفورسز اہلکاروں نے بھی اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دئیے اور طرفین کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران دو جنگجو مارے گئے جن کی شناخت ہلال احمد وانی ولد محمد اکرم وانی ساکنہ یاری پورہ اور شعیب محمد لون عرف مرسی ولد مرحوم ارشد حسین ساکنہ بمرتھ کولگام کے بطور ہوئی ان کا تعلق حزب المجاہدین کے ساتھ تھا۔ جائے جھڑپ سے کچھ رائفلیں ،گولیاں ،اقابل اعتراض سامان بھی ضبط کیاگیا۔بتایاجاتاہے کہ جونہی مسلح جھڑپ کا آغاز ہوا تو جھڑپ کے مقام کے متصل مظاہرین جمع ہوئے اور انہوں نے چاروں طرف فورسز کو پتھراؤ کا نشانہ بنایا۔مظاہرین کو مقام جھڑپ تک پیش قدمی کرنے سے روکنے کیلئے فورسز نے آنسو گیس کے سینکڑوں گولے داغے۔پتھراؤ اور پر تشدد تصادم آرائیوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ ادھرجنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی گوپالپورہ چاڈورہ میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر رہی۔ انتظامیہ نے احتیاطی طور پر ضلع بڈگام میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کرادی ہیں۔ پولیس کی طرف سے موصولہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حفاظتی عملے کو یہ اطلاع موصو ل ہوئی کہ جنگجو وسطی ضلع بڈگام کے گوپال پورہ چاڈورہ میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طورپر فوراً اس علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور اْنہیں ڈھونڈ نکالنے کیلئے کارروائی شروع کی ،فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر دہشت گردوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔چنانچہ سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں دو دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ جنگجو ؤں کی شناخت ہلال احمد وانی ولد محمد اکرم وانی اور شعیب محمد لون عرف مرسی ولد مرحوم ارشید حسین کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مذکورہ دہشت گرد کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھے اور وہ سیکورٹی فورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اوردیگر تخریبی سرگرمیوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کو مطلوب تھے۔ جھڑپ کے دوران مارا گیا دہشت گرد ہلال احمد ممنوعہ تنظیم میں بھرتی عمل کو فعال بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کر چکا ہے جبکہ وہ جنوبی او روسطی کشمیر میں سرگرم تھا اور 2015سے وہ تخریبی کارروائیوں کا حصہ رہا ہے۔مذکورہ شدت پسند وادی کشمیر میں سیکورٹی فورسز پر کئے گئے متعدد حملوں میں بھی پیش پیش تھا۔ اسی طرح مہلوک جنگجو شعیب لون عرف مرسی بھی سیکورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔جھڑپ کی جگہ اسلحہ وگولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا ہے۔ مہلوک شدت پسند وں کی دیگر تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی بھی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد دہشت گردوں کی نعشیں لواحقین کے سپرد کی گئی۔ پولیس نے عوام سے پْر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اْسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ چنانچہ ممکن طور جھڑپ کی جگہ بارودی مواد اگر پھٹنے سے رہ گیا ہو تو اْس کی زد میں آکر کسی کی جان بھی جاسکتی ہے۔ اسی لئے لوگوں سے بار بار اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ کا رخ کرنے سے اجتناب کریں۔ لوگوں سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ حفاظتی عملے کو اپنا کام بہ احسن خوبی انجام دینے میں بھر پور تعاون فراہم کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آسکیں۔.
