رواں ماہ اب تک 14بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں خاتون سمیت تین ہلاک

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
file photo

ایک دن کی خاموشی کے بعد ہندوپاک افواج کے مابین پھر گولہ باری، فوجی اہلکار زخمی

سرینگر /17جنوری: ہندوپاک حد متارکہ پر محض ایک دن کی خاموشی کے بعد جمعرات کو ضلع پونچھ میںایک بار پھر ہندوستان اور پاکستان کی فوج جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک دوسرے پر گولہ باری کی ۔ اس طرح رواں ماہ ہندوپاک افواج کے مابین 14مرتبہ گولہ باری ہوئی جس میں اب تک ایک خاتون سمیت تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارت اور پاکستانی فوج کے مابین سرحدوں پر گذشتہ روز بدھ کو سرحدوں پر کوئی گولہ باری نہیں ہوئی اور دن بھر سرحدوں پر تعینات دوجوں جانب کے ہتھیاروں کے دہانے خاموش رہے ۔ تاہم محض ایک دن کی خاموشی کے بعد آج جمعرات کو بھارت اور پاکستان کی افواج نے جمعرات کو پونچھ ضلع میں کنٹرول لائن پر ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی افواج نے کھاری اور کمارا علاقوں میں ایک دوسرے کیخلاف خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیا۔دفاعی ذرائع نے کہا کہ فائرنگ کا آغاز پاکستانی فورسز نے کیا اور اس کا بھر جواب بھارتی افواج نے دیدیا۔کراس ایل او سی فائرنگ کے اس واقعہ میں تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔اس طرح رواں ماہ میں اب تک ہندوپاک کے مابین جنگ بندی معاہدے کی 14بار خلار ورزی کی گئی جس میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی ایک خاتون ، ایک بی ایس ایف آفسیر اور ایک فوجی اہلکار سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین 2003میں جنگ بندی معاہدے طے پایا تھا جس میں دونوں جانب ڈی جی اوز سربراہاںنے نئی دلی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران بھارت اور پاکستانی سرحدوں پر امن قائم کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کئے گئے تاہم ممبئی تاج ہوٹل واقع کے بعد جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا سلسلہ شروع ہوا اور آئے روز سرحدوں پر گولہ باری ہورہی ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ خوف و ہشت میں مبتلاء ہوچکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کو ہی ترجیح دی ہے ۔

Share This Article