لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے عام شہری ہلاکتیں نا قابل برداشت
سرینگر /17جنوری : پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ بھارت فائرنگ کے ذریعے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانا چاہتا ہے۔اسی دوران انہوں نے بھارت کی فائرنگ سے عام شہری ہلاکتوں پر زور دار احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسی کارروائیوں کو بند کیا جائے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستان کی دارالحکومت اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی افواج نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں،بھارتی جارحیت کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پرشہری کی ہلاکت بھی ہوئی ، بھارت فائرنگ کے ذریعے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانا چاہتا ہے، پاکستان میں بارڈر ایکشن ٹیم نام کی کوئی فورس نہیں، بھارتی عزائم سیز فائر کی لگاتارخلاف ورزیوں سے ظاہر ہوتے ہیں۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں پاکستان کے سفارتی اہلکار کو حبس بے جا میں رکھا گیا، ایسا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی گئی، دونوں ممالک کو مل بیٹھ کرایسے معاملات سے نمٹنا چاہیے۔ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے مسئلہ کے حل کے لئے ہر ممکن تعاون کررہا ہے، پاکستان نے امریکہ اور طالبان مذاکرات میں مدد کی ہے کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ مسئلے کے حل کے لئے ضروری ہے۔ بھارت کا افغانستان میں کوئی کردار نہیں ہے، نا ہی بھارت کا افغان عمل میں کوئی کردار ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ قطر کے امیر کی دعوت پر وزیراعظم 21 اور 22 جنوری کو دو روزہ دورے پر قطرروانہ ہوں گے،شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ کی تاریخیں طے ہورہی ہیں، ان کے دورہ میں مختلف معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔

