سرینگر/13جنوری : ملت میں اتحاد واتفاق ہونا کامیابی ، کامرانی اور فتح و نصرت کی بڑی کنجی اور ثمر ہوتا ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے بغیر کسی زور وجبر تلوار سے پوری کائنات میں اسلام کا مقدس جھنڈا گاڑا اور دنیا میں بڑی بڑی اسلامی سلطنتیں وجود میںلائی تب ہی جب خدا کے بندوں اور پیغمبر آخر وزماں ؐ محسن انسانیت اورمحسن کائنات آنحضور ؐ کے دین پر قائم ودائم رہے اور خدا اور رسولؐ کی فرمان اور ارشادات عمل کرتے رہے اور خاص کر اتحاد واتفاق میں ۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار صدر جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس اور رکن پارلیمان الحاج ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پائین شہر کے سید حمید پورہ نوابازار ( دلال محلہ ) اور بلوارڈ سرینگرکے دو الگ الگ تقریبات میں اظہار کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج عالم اسلام میں نا اتفاقی اور بے چینی کا نتیجہ ہے۔ یہ سب صدیوں سے صہولی طاقتیں ( انگریزی سامراج اور اس کے اتحادی ) اسلام کے خلاف سازشیں کرتے آئیں اور آج بھی جاری ہے ۔ اسرائیل اور اس کے پشت پناہ امریکہ کا اس میں سب سے بڑا رول رہا ہے اور اسلام دشمن ثابت ہوئے ۔ آج عراق ، شام ، لبنان ، افغانستان ، یمن ، طرابس مسلمان بھائی کو ہی مسلمان کے ذریعے قتل ناحق کیا جارہا ہے جو عالم اسلام کے لئے اس وقت سب سے بڑی تشویش کی بات اور لمحہ فکریہ ہے ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے عالم اسلام کے فرزندان توحید ، امت مسلمہ اور اسلامی سربراہوں سے پُرزور اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر یک زباں اور یکسوں ہو کر ان اسلام کے بد ترین دشمنوں کے خلاف صف آرا ہوجائیں اورجو وقت کی اہم ضرورت بھی ہے ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان کے لوگ ایک بدترین فرقہ پرستی کے روحجاں سے کے بھینور میں پھنس گیا ہے اور فرقہ پرستی کی لپیٹ میں آکر ملک کی سالمیت اور آزادی کو زبردست خطرہ لاحق ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ ملک کی اکلیتیں خاص کر 25 کروڑ مسلمان اور دلت وغیرہ اقلیتیں بھی پریشان حال ، عدم تحفظ کے شکار اور غیر یقینت اور بے چینی کی حالت میںمبتلا ہے ۔ اللہ کرے کہ ان فرقہ پرست طاقتوں سے ملک کے لوگوں کو جلد از جلد نجات ملے ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ان آر ایس اور ( بی جے پی ) کی شکل میں طاقتوں کو قلم دوات والوں کندوں اور گود میں چڑا کر وارد کشمیر کیا اور ریاست کے تینوں خطوں میں فرقہ پرستی کا روحجاں میں بڑاواں دیا محض اقتدار کے لئے ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے ملک کے جمہور نواز امن پسند اور محب وطن لوگوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر فرقہ پرست طاقتوں کو زمین بھوس کریں جو وقت کی اہم ضرورت ہے ۔انہوں نے سرحدوں پر جاری تناؤ ، گولہ باری اور آرپار نزدیک سرحدوں کے لوگوں کی قیمیتی جانوں کی تلافی پر افسوس کا اظہار کیا اور فوری طور پر 2003 کی فائر بندی کے ساتھ ساتھ فوجی سربراہوں کے امن میٹینگوں اور فلیگ میٹ پر بھی عمل کرنے کی اپیل کی۔ اسی دوران ڈاکٹر عبداللہ نے سید حمید پورہ نوابازار جاکر وہاں معروف تاجر جان کیف ہاؤس کے مرحوم غلام احمد جاں کے لواحقین اور اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبداللہ ریاست کے معروف تاجر سابق صدر چیمبر آف کامرس ، سابق صدر ہوٹلیروس ایسوسی ایشن حاجی غلام محمد ڈگ آف بلوارڈ کے گھر جاکر بھی تعزیت کی جن کی پارساہ اور نیک سیرت شریک حیات گزشتہ روز رحلت کر گئی تھی اور اس موقعہ پر مرحومین کے حق میں کلمات ، دعائے مغفرت ادا کیا۔ ڈاکٹر عبداللہ کے ہمراہ علی محمد ساگر اور ناصر اسلم وانی اور دیگر پارٹی اراکین بھی تھے ۔

