جلوس جنازہ سے باپ کا خطاب ، کہا مجھے اپنے بیٹے پر فخر ، لوگوں سے آنسو نہ بہانے کی اپیل
سرینگر/13جنوری /سی این آئی/ یاری پورہ کولگام جھڑپ میں جاں بحق البدر کمانڈر زینت الاسلام تین سالہ بیٹی کا باپ ہونے کے علاوہ گزشتہ 4سالوں سے سرگرم تھا ۔ اسی دوران زینت الاسلام کے والد نے جلوس جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کی شہادت ان کیلئے فخر کی بات ہے ۔ سی این آئی کے مطابق یاری پورہ کولگام میں سنیچروار کی شام خونین معرکہ آرائی میں البدر کمانڈر زینت الاسلام ساکنہ سوگن شوپیان اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہو گیا۔ زینت الاسلام کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ سال2008میں امرناتھ شرائن بورڈ کے خلاف کشمیر میں عوامی ایجی ٹیشن کے دوران زنیت الاسلام کو جنگجو ئوں کیلئے بالائے زمین کارکنوں کے بطور کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔اور 20سال کی عمر میں ہی جنگجوئوں کے ساتھ رابطہ کے الزام میں ان پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا تھا ۔ زینت الاسلام کے والد غلام حسن شاہ کے مطابق زینت الاسلام اس کا چھوٹا بیٹا تھا جبکہ اس کے گھر میں ان کی تین سالہ بچی بھی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2008اور 2010میں وادی کشمیر میں بڑی عوامی احتجاجی لہر کے بعد ا شدہ صورتحال کے بعد جہاں درجنوں کی تعداد میں نوجوان عسکریت کی طرف مائل ہو کر عسکری صفوں میں شامل ہو گئے تو ان کا بیٹا زنیت الاسلام بھی ان میں سے ایک تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ گریجویشن کے بعد ان کی شادی ہوگئی جبکہ نومبر 2015میںجنگجوئوں صفوں میں شامل ہونے کے بعد پہلے زینت الاسلام عسکری تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ ہوگیا تھا جس کے بعد انہوں نے البدر تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ چار سالوں تک سرگرم رہنے کے بعد زنیت الاسلام سنیچروار کی شام کو یاری پورہ کولگام میں جھڑپ کے دوران مقامی ساتھی کے ہمراہ جاں بحق ہو گیا ۔ اسی دوران بیٹے کے جلوس جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے زینت الاسلام کے والد غلام حسن شاہ نے کہا کہ ان کے بیٹے کی شہادت ان کیلئے فخر کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زنیت الاسلام نے فورسز ہراسانیوں سے تنگ آکر عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس کا جو مقصد تھا انہوں نے اس کو حاصل کر لیا ۔

