ویڈیو: آری پل میں فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مسلح تصادم آرائی جاری ، حزب کمانڈر کی ہلاکت کا خدشہ

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

رواں ہفتے کے دوران ترال میں دوسری خونین معرکہ آرائی
فورسز اور مظاہرین کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ، پیلٹ و بلٹ فائرنگ ، کئی مضروب ، انٹر نیٹ خدمات معطل

 

سرینگر/05جنوری/سی این آئی/ رواں ہفتے کے دوران جنوبی قصبہ ترال میں دوسرے خونین معرکہ آرائی کے دوران آری پل علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان مسلح تصادم آرائی جاری ہے جس دوران اب تک جھڑپ میں اعلی کمانڈر کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہے ۔ جبکہ طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں ایک سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہو گیا اور دو رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچ گیا ہے ۔ جھڑپ کے ساتھ ہی قصبہ ترال کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی اور مشتعل مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید پتھرائو اور ٹیر گیس شیلنگ ہوئی جس دوران درجنوں افراد مضروب ہوگئے ۔ اسی دوران جھڑپ شروع ہوتے ہی پلوامہ ، ترال اور اونتی پورہ علاقوں میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی گئی ۔پولیس نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں آپریشن جاری ہے اور تمام صورتحال تلاشی آپریشن ختم ہونے کے بعد ہی واضح ہو جائیگی ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آری پل ترال میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے علاقے کو سنیچروار کی اعلیٰ صبح محاصرے میں لیا اور وہاں جنگجو مخالف آپرین شروع کیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی جھڑپ میںسی آر پی ایف اہلکار زخمی ہو گیا جس کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے دو رہائشی مکانات پر موٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں ان میں آگ نمودار ہوئی ۔ ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں جنگجوئوں کے خلاف آپریشن حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا۔جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جھڑپ میں عسکری تنظیم حزب سے وابستہ اعلیٰ کمانڈر جاں بحق ہو گیا ہے تاہم ابھی تک جھڑپ کے مقام سے اس کی نعش بر آمد نہیں کی گئی ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اسی دوران جونہی علاقے میں خونین معرکہ آرائی کی خبر پھیل گئی تو ترال کے درجنوں علاقوں میں بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوںپر نکل آئے او رپولیس و فورسز پر سنگ باری شروع کی ۔تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ، پیلٹ گولیوں اور پیپر گیس کا بھی استعمال کیا تاہم صورتحال قابو سے باہر ہوگئی اور پولیس وفورسز نے سڑکوں پرنکل آنے والے نوجوانوں اور سنگ باری کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں پولیس و فورسز کی جانب سے گولیاں چلانے کے دوران مبینہ طور پر ایک درجن افراد شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک اور سرینگر علاج و معالجہ کیلئے منتقل کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز کو اس وقت ہوائی فائرنگ کرنی پڑی جب مشتعل ہجوم نے جھڑپ کی مقام کی طرف پیش قدمی کرکے آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں آپریشن جاری ہے ۔ ادھر پولیس نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے اور تمام صورتحال تلاشی کارروائی ختم ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جھڑپ میں ایک جنگجو کے مارے جانے کی اطلاع موصول ہوئی ہے تاہم ابھی تک نعش بر آمد نہیں کی گئی ۔

Share This Article