قتل کی97واردات پیش،سڑک حادثات میں2سو72انسانی جانیں تلف
سرینگر؍۲ جنوری؍سی این ایس؍کشمیر وادی میں مختلف قسم کے جرائم کی کاروائیوں میں تشویشناک حد تک کا اضافہ ہواہے جس کی وجہ سے شریف اور مہذب شہری فکر و تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس سلسلے میں ریاستی پولیس کی جانب سے پیش کئے اعدادوشمار میں بتایاگیا ہے کہ سال 2018کے دوران وادی میں پولیس کے پاس جرائم کی12ہزار946واردات درج ہوئی ہیں جن میں سے،قتل،منشیات،سڑک حادثات اور ڈکیتیوں کی بڑی تعداد ہے۔منشیات کے ساتھ وابستہ جرائم میں جنوبی کشمیر کو سرفہرست بتایا گیا ہے جس کے بعد شمالی کشمیر کا نمبر ہے جبکہ کرگل میں ایک سال کے اندر اس قسم کی صرف ایک واردات پیش آئی ہے۔کشمیر رینج کے انسپکٹر جنرل ایس پی پانی نے بدھ کو ریاستی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کی موجود گی میں سال2018کے دوران کشمیر وادی میں پیش آئی جرائم کی واردات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال رفتہ کے دوران پولیس کے پاس مجموعی طور12ہزار946 جرائم کے کیس درج ہوئے جبکہ اس سے پہلے22ہزار595محکمے کے پاس زیر التوا تھے جن میں سے 11ہزار880کو حل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مدت کے دوران عام شہریوں کی کل 97قتل واردات کا اندراج ہوا جن میں سے32کیسوں کو حل کیا گیا جبکہ باقی ماندہ ابھی زیر کاروائی ہیں۔ ایس پی پانی کے مطابق اس کے علاوہ سال رفتہ کے دوران منشیات کی سمنگلنگ کے کل312کیس رجسٹر ہوئے جس میں482افرادکو گرفتار کیا گیا جبکہ220ملزموں کے خلاف چالان بھی پیش کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ منشیات کی سمنگلنگ میں ملوث افراد سے متعلق52کیس سرینگر میں درج ہوئے جس کے تحت82 افراد گرفتار کئے گئے۔دوسرے نمبر پر کولگام رہا جہاں50کیس درج ہوئے اور86افراد کو گرفتار کیا گیا۔بارہمولہ میں اس قسم کے40کیس درج ہوئے جس میں60افراد گرفتار کئے گئے اور36کا عدالت میں چارج شیٹ دائر کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ منشیات کی سمنگلنگ میں سب سے کم شرح کرگل ضلع کی ہے جہاں ایک سال میں صرف ایک کیس درج ہوا جس پر دو افراد گرفتار کئے گئے۔انہوں نے کہا کہNDPSمیں سب سے زیادہ 58فیصدی رول جنوبی کشمیر کا ہے جس کے بعد شمالی کشمیر35فیصد اور تیسرے نمبر پروسطی کشمیر25فیصد کے ساتھ ہے۔آئی جی پی کے مطابق سال2018کے دوران ملی ٹینسی کے ساتھ کل 97جھڑپیں ہوئیں جن میں252ملی ٹینٹ،جموں کشمیر پولیس کے 45 ،سی آر پی ایف کے9اور فوج کے30 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 44عام شہری بھی اپنی جانیں گنوا ں بیٹھے۔اس کے علاوہ سال رفتہ کے دوران 2ہزار6سڑک حادثات پیش آئے جن میں272انسانی جانیں تلف ہوئیں اور2551 افراد زخمی ہوئے۔ان حادثات میں چار پہیوں والی گاڑیوں کا سب سے زیادہ رول رہا جن کے خلاف کیس بھی رجسٹر ہوئے۔اسی مدت کے دوران دھوکہ دہی کے244کیس درج ہوئے جن میں سے59کو حل کیا گیا،جواریوں کے خلاف99کیس درج ہوئے،93کے خلاف چارج شیٹ دائر کیا گیا اس کے علاوہ سیاحتی شعبے کی پولیس نے11کیس درج کئے جن میں7کو سلجھایا گیا۔

