سرینگر/16دسمبر: پلوامہ میں کل ہوئی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ہے کہ میں نے آج کامن ویلتھ ہومن رائٹس چیف سنجے ہزاریکا کو ایک ٹیم کشمیر روانہ کرنے کی تاکید کی تاکہ وہ خود کشمیر میں روز مرہ عام شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا مشاہدہ کریں۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ میں نے اُن کو یہ بھی کہا کہ کل کی قتل و غارت کیلئے وہ سپریم کورٹ کے جج کے ذریعے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اُن کو یاد دلایا کہ کچھ مدت پہلے انہوں نے اپنی تنظیم کی طرف سے حکومت ہند سے واضح الفاظ میں مطالبہ کیا تھا کہ افسپاء جیسے کالے قانون کو جس میں انسانی حقوق کی لا محدود پامالیوں کو نہیں روکا جا سکتا اور اس قانون کے تحت مظلوم خاندانوں کے ساتھ رابطہ بھی ناممکن ہوتا ہے۔ تو ایسے کالے قانون کو کالعدم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاریکا جی سے کہا کہ اب کشمیر میں ایسے حالات ہو گئے ہیں کہ فورسز اس قانون کو لازماً روز مرہ استعمال کر رہے ہیں تاکہ کشمیر میں وہ دہشت پھیلائیں۔ میں نے ہزاریکا جی سے اپنی اپیل میں یہ بھی کہا چونکہ نا م نہاد نیشنل ہومن رائٹس کمیشن اپنے عمل میں مفلوج ہے ، اسلئے اُن کی تنظیم کو آگے آکر کشمیر کا دورہ کر کے مظلوموں کیلئے اپنی آواز بلند کریں۔میں نے اس چٹھی کی نکل فوج کے کئی جنرلوں جن میں جنرل ڈی ایس ہوڈا شامل ہے اور دوسرے انسانی حقوق کے علمبردارشخصیتوں کو روانہ کی ہے۔‘‘

