ہندستانی فلمیں رہتی دنیا تک راج کپور کی احسان مند رہیں گی

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

ہندستانی فلمیں رہتی دنیا تک راج کپور کی احسان مند رہیں گی

ممبئی، یکم جون :ہندوستانی سنیما کو بہترین فلمیں دینے والے پہلے شو مین راج کپور کی خواہش بچپن سے ہی اداکار بننے کی تھی۔
اس کے لئے انہیں نہ صرف کلیپر بوائے بننا پڑا بلکہ کیدار شرما کاتھپڑ بھی کھانا پڑا تھا۔

راج کپور کا آبائی تعلق لائل پور (فیصل آباد) کے قصبے سمندری سے ہے ۔
وہ 14 دسمبر 1924 کو پشاور میں پیدا ہوئے۔
1929 کو ان کا خاندان ممبئی منتقل ہوگیا۔
راج کپور جب میٹرک کے امتحان میں ایک مضمون میں فیل ہوئے تو انہوں نے اپنے والد پرتھوی راج کپور سے کہا کہ میں مزید تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا، میں فلموں میں کام کرنا چاہتا ہوں، فلمیں بنانا چاہتا ہوں۔
راج کپور کی یہ بات سن کر پرتھوی راج کپور کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگیں۔
والد سے متاثر ہوکر ان میں بھی اداکاری کا شوق پیدا ہوا اور یہ شوق انہیں انڈین نیشنل تھیٹر ممبئی پہنچانے کا سبب بنا اور بالی ووڈ کے اس عظیم شو میں نے یہی سے اپنے فلمی سفر کا آغاز چائلڈ اداکار کے طور پر سال 1935 میں کیا ۔

راج کپور کی فلم نیل کمل کا قصہ بھی کافی دلچسپ ہے۔
پرتھوی راج کپور نے راج کپور کو کیدار شرما کی یونٹ میں کلیپر بوائے کے طور پر کام کرنے کا مشورہ دیا۔
فلم کی شوٹنگ کے وقت وہ اکثر آئینے کے سامنے چلے جاتے اور اپنے بال سنوارنے لگتے۔
کلیپ دیتے وقت ان کی کوشش ہوتی کہ کسی طرح ان کا چہرہ بھی کیمرے کے سامنے آجائے۔

جاری یو این آئی

Share This Article