نارض سیاسی جماعتیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے آزاد ہیں: ستہ پال ملک

By
6 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

اگر مجھے پی ڈی پی کا فیکس مل بھی جاتا تب بھی اسمبلی تحلیل کرتا

سرینگر22نومبر /: فورسز کا بھرپور ساتھ دینے والی حکومت کی ضرورت پر زور دیتے ہو ئے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ اگر انہیں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا فیکس مل بھی جاتا وہ تب بھی ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرتے۔ انہوں نے پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا نام لئے بغیر کہا کہ اگر یہ سرکار معرض وجود میں آجاتی تو موجودہ صورتحال کا الٹ ہوجاتا اور ایک موقع پرست سرکار نکل کر سامنے آجاتی انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور این سی کے عمر عبد اللہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ دفتر میں اْس وقت کوئی نہیں تھا کل عید تھی، راج بھون میں مجھے کھانا دینے کے لئے بھی عملہ موجود نہیں تھا میر ے فیصلے سے نارض سیاسی جماعتیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے آزاد ہیں۔ سی این ایس کے مطابق ورنر ستیہ پال ملک نے جموں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کو ایک مستحکم حکومت کی ضرورت ہے جو سیکورٹی فورسز کا بھرپور ساتھ دے گی۔ اسمبلی کی برخواستگی کو عوام مفاد سے جوڑ تے ہوئے کہا کہ تینوں جماعتوں کا اتحاد ریاست کے مفاد میں نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ لیا۔یہ پوچھے جانے پر کہ اسمبلی کو کیونکر ایک مخصوص وقت پر تحلیل کیا گیا، تو انہوں نے کہاکہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کا کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی۔ کوئی اس طرح کی خوفناک پیشکش لیکر سامنے نہیں آیا تھا کہ ہم حکومت تشکیل دیں گے۔ میں نے اسمبلی کو اس لئے معطلی کی حالت میں رکھا تھا کیونکہ میں نے ممبران اسمبلی کو فنڈس دیے تھے۔ستیہ پال ملک نے کہا کہ اگر انہیں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا فیکس مل بھی جاتا وہ تب بھی ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرتے۔ گو ورنر نے کہامیں نے ریاستی آئین کے مطابق عمل کرکے اسمبلی تحلیل کی جو ریاستی مفاد میں ہے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اْن کی خواہش ہے کہ ریاست میں انتخابات منعقد ہوں اور ایک منتخب سرکار بنے۔جب اْن سے پوچھا گیا کہ راج بھون میں پی ڈی پی کا حکومت بنانے سے متعلق دعویٰ لینے کیلئے فیکس مشین کیوں نہیں چل رہی تھی تو،انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور این سی کے عمر عبد اللہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ دفتر میں اْس وقت کوئی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کل عید میلاد تھا راج بھون میں مجھے کھانا دینے کے لئے بھی عملہ موجود نہیں تھا۔ سارے لوگ لیو پر تھے۔ سب کچھ بند تھا۔ وہ ایک دن پہلے آسکتی تھیں۔ اگر مجھے ان کا فیکس مل بھی جاتا تو میں پھر بھی یہی موقف اختیار کرلیتا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہر کوئی چاہتا تھا کہ اسمبلی تحلیل ہو۔ان کا اس پر مزید کہنا تھا کہ میرے پاس کوئی نہیں آیا۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ میں نے فیکس بھیجا۔ کل عید میلاد تھا ۔ تمام دفاتر بند تھے۔ کوئی مجھ سے ملنے نہیں آیا۔ کسی نے وقت نہیں مانگا۔ وہ ایک دن پہلے بھی آسکتے تھے۔ اگر وہ ذاتی طور پر ملاقات کرکے حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کرتے تو میں نے یہی موقف اختیار کیا ہوتا۔ جب میں کشمیر آیا تو میں نے کہا تھا کہ میں جوڑ توڑ کی حکومت بننے نہیں دوں گا۔ گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا ہے کہ انہیں جو ٹھیک لگا وہی کیا، ناراض سیاسی جماعتیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے آزاد ہیں۔ اس دوران راج بھون سے جاری ایک بیان میں اسمبلی تحلیل کرنے پر گورنر کا موقف واضح کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چار اہم وجوہات سے اسمبلی تحلیل کرنیکا فیصلہ لیا گیا۔ ایک مختلف نظریات والی سیاسی جماعتوں کے ایک ساتھ آنے سے مستحکم حکومت قائم ہونا ناممکن ہے۔ ان میں سے کچھ پارٹیاں ایسی تھیں جو اسمبلی تحلیل کا مطالبہ بھی کر رہی تھیں۔ علاوہ ازیں گزشتہ چند سالوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ منقسم مینڈیٹ سے مستحکم حکومت بنانا ممکن نہیں ہے۔ ایسی جماعتوں کے ساتھ آنے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کسی بھی صورت میں اقتدار میں آنا نہ کہ ایک ذمہ دار حکومت بنانا۔ایسی خبر مل رہی تھی کہ قانون سازوں سے حمایت حاصل کرنے کے لئے سیاسی جماعتیں ہارس ٹریڈنگ(خرید وفروخت) کرنے والی تھیں۔ ایسی سرگرمیاں جمہوریت کے لئے خطرناک ہیں اور سیاسی عمل میں خرابی پیدا کرتی ہیں۔تیسری وجہ،حکومت قائم ہونے کا شک۔جب بھی اس طرح کی حکومت قائم ہوتی ہے، اکثریت کے لئے مختلف دعوے کئے جاتے ہیں۔ ایسے نظام حکومت کے زیادہ دن چلنے پر شبہ ہوتا ہے۔چوتھی وجہ۔ سیکورٹی صورت جموں وکشمیر میں سکیورٹی کے نازک حالات ہیں۔ یہاں سکیورٹی اہلکاروں کے لئے مستحکم اور دوستانہ ماحول کی ضرورت ہے جو ام دشمن عناصرکے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور حالات پر قابو پانے میں مسلسل کامیاب ہو رہے ہیں۔

Share This Article