قیدیوں کو باہر کی جیلوں میں منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں: میرواعظ

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سیاسی قیدیوں کو منتقل کرنے کی کارروائی حد درجہ انتقامانہ

سرینگر22نومبر : حریت کانفرنس نے ریاستی حکمرانوں کی جانب سے جموں وکشمیر کی جیلوں میں مقید سیاسی قیدیوں کو بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کرنے کی کارروائی کو حد درجہ انتقامانہ اور حقوق بشر کی شدید خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان قیدیوں کو باہر کی جیلوں میں منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور ریاستی حکمران بھارت کی عدالت عالیہ کے احکامات کے باوجود ان قیدیوں کو باہر کی ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کرکے خود قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں جس سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ جموں وکشمیر کے حدود میں قانون کی نہیں بلکہ فوج اور فورسز کی عملداری ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ ان قیدیوں کی ریاست سے باہر منتقلی کے عمل سے ان کے اہل خانہ اور دیگر عزیز و اقارب کو بے خبر رکھا گیا جس کی وجہ سے ان قیدیوں کی زندگیوں کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہو چکے ہیں ۔بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دو مہینوں کے دوران کشمیر کی جیلوں میں مقید10 پاکستانی قیدیوں کو کشمیر سے تہاڑ جیل دلی منتقل کیا گیا جبکہ23 کشمیری سیاسی نظر بندوں جن میں مشتاق الاسلام، فیروز احمد خان، بشارت احمد میر، لطیف احمد راتھر، منظور احمد نجار، شوکت احمد گنائی ، غلام حسن شاہ، منظور احمد گنائی، امتیاز احمد ڈار، عبدالمجید میر، نصیر احمد شیخ، عامر عزیز لون، عرفان احمد لون، ظفر الاسلام شاہ، امتیاز احمد میر ، فاروق احمد بٹ ، بشیر احمد قریشی، بشیر احمد ڈار ، محمد شفیع ڈار، خورشید احمد پرے ، فردوس احمد پرے، شکیل احمد ٹھوکراور دیگر شامل ہیں کو بھارتی ریاست ہریانہ اور دیگر جیلوں میں منتقل کیا گیا جبکہ اس سے قبل بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے ذریعے گرفتار کئے گئے 12 کے قریب سیاسی کشمیری رہنماؤں اور کارکنوں جن میں جناب شبیر احمد شاہ، الطاف احمد فنٹوش، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار ، شاہد یوسف ، تاجر ظہور وٹالی، خاتون رہنما سیدہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی ،ناہیدہ نسرین شامل ہیں کو تہاڑ جیل دلی میں مقید رکھا گیا ہے جہاں ان کی مدت قید کو کسی نہ کسی بہانے طول دیا جارہا ہے اور مختلف بہانوں سے جیل میں مقید رکھ کر ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ خود ریاست جموں وکشمیر کی جیلوں میں تقریباً 2200کے قریب سیاسی قیدی ، کالے قوانین کے تحت مقید کر دیئے گئے ہیں جبکہ ان پر عائد الزامات کی کوئی بنیاد نہیں ۔بیان میں کہا گیا کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کے نام پر آمریت کا بول بالا ہے اور حکمران طبقہ یہاں کے حریت پسند عوام کودھمکانے اور انہیں پشت بہ دیوار کرکے ان کے جذبہ مزاحمت کو کچلنے کیلئے ہر غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہتھکنڈہ بروئے کار لا رہا ہے جس سے کشمیری عوام کے تئیں ان کے جارحانہ اورظالمانہ عزائم کی نشاندہی ہو رہی ہے ۔بیان میں حقوق البشر کے عالمی اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ جموں وکشمیر میں حکمرانوں کی جانب سے ہو رہی حقوق بشر کی خلاف ورزیوں اور قیدیوں کی حالت زار کا سنجیدہ نوٹس لیں اور ان پامالیوں کو روکنے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے۔

Share This Article