حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی

By
7 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

ترال میں اعلاناً کرفیو ،پائین شہر میں بندشیں
امکانی جلسے ،جلوسوں اور ریلیوں کو روکنے کیلئے دفعہ144نافذ، پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات

سری نگر،ترال:٧،جولائی :کے این این/ حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر ضلع انتظامیہ پلوامہ نے قصبہ ترال میں ہفتہ کو اعلاناً غیر معینہ عرصے کیلئے کرفیو نافذ کیا جبکہ پائین شہر میںمسلسل دوسرے روز بھی پابندیاں وبندشیں عائد رہیں ۔کرفیو اور بندشوں کے باعث پائین شہر اور جنوبی قصبہ ترال میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئیں ۔دریں اثناء وادی بھر میں امکانی احتجاجی جلسے ،جلوسوں اور ریلیوں کو روکنے کیلئے دفعہ 144نافذ کیا گیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر انتظامیہ نے جنوبی قصبہ ترال میں اعلانا ً کرفیو نافذ کیا ۔ضلع انتظامیہ پلوامہ کی ہدایت پر قصبہ ترال میں ہفتہ کی علی الصبح پولیس کی لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کرایا گیا ۔نمائندے کے مطابق قصبہ ترال کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو ہی فوج وفورسز نے مکمل طور پر سیل کیا ،جس دوران پولیس کی لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ۔پولیس کی لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں سے گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت دی ۔پولیس کی لائوڈ اسپیکر گاڑیاں قصبہ میںگشت کے دوران یہ اعلان کرتی ہوئی سنی گئیں ،کہ قصبہ میں کرفیو نافذ ہے ،لہٰذا لوگ گھروں کے اندر ہی رہیں جبکہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائیگی ۔پورے قصبہ کو فورسز قلعے میں قلعے میں تبدیل کیا ،قصبے کے اندرون میں چپے چپے پر پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ کسی بھی امکانی جلسے، جلوسوں اور ریلیوں کو روکنے کیلئے ترال قصبے کو چاروں اطراف سے سیل کیا گیا ۔نمائندے کے مطابق قصبہ ترال کے تمام داخلی وخارجی راستوں کو مسدود کیا گیا ،تاکہ کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کیا جاسکے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب وہ ہفتہ کی الصبح دودھ اور روٹی لانے کیلئے گھر سے باہر آئے ،تو یہاں تعیناے فورسز اہلکاروں نے اُنہیں واپس گھروں کو لوٹ جانے کو کہا ۔یاد رہے کہ22سالہحزب المجاہدین کے نامور کمانڈر برہان وانی کو اپنے دو ساتھیوں سمیت 8جولائی 2016کو جنوبی کشمیر کے بمہ ڈورو کوکرناگ میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران جاں بحق کیا گیا تھا ،جسکے بعد وادی گیر سطح پر ایک عوامی ایجی ٹیشن چھڑ گئی ،جو مہینوں تک جاری رہی ،جس دوران فورسز کی فائرنگ سے 90سے زیادہ نوجوان جاں بحق اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے جن میں سینکڑوں چھرے لگنے سے آنکھوں کی بینا ئی سے محروم ہوئے جبکہ چھروں والی بندوق کے استعمال کی گونج اقوام متحدہ تک سنائی دی اور اس پرعالمی حقوق انسانی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت کئی تنظیموں اور مین اسٹریم لیڈر شپ نے پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا ،تاہم ابھی تک اس پر پابندی عائد نہیں کی گئی ۔مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ چھروں والی بندوق کا متبادل تلاش کیا جائیگا ،لیکن زمینی سطح پر وہ متبادل کہیں نظر ہی نہیں آرہا ہے ۔ ادھر جمعہ کے روز پائین شہر میں عائد کی گئیں پابندیاں وبندشیں ہفتہ کو مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہیں ۔سٹی رپورٹر کے مطابق ہفتہ کی الصبح پائین شہر کے درجنوں علاقے میں پابندیاں وبندشیں عائد رہیں ۔نوہٹہ ،گوجوارہ ،راجوری کدل ،نواکدل ،کائوڈارہ ،نالہ مار روڑ سمیت کئی علاقوں میں ہفتہ کی علی الصبح پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور یہاں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئیں ۔ حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر دوروز قبل ہی شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سیکورٹی انتظامات سخت کردئے گئے ۔جمعہ کو شہر خاص میں پابندیاں اور بندشیں عائد رہیں اور لوگوں کی نقل وحرکت کو محدود رکھا گیا جبکہ یہ سلسلہ ہفتہ کو بھی جاری رہا ۔مقامی لوگوں کے مطابق پائین شہرکو خار دار تاروں سے سیل کیا گیا ۔ممکنہ طور پر یہ سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہے گا ۔جمعہ کو شہرخاص کے نوہٹہ علاقہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کو بھی مکمل طور پر سیل کیا گیا ،جس دوران یہاں نماز جمعہ اداکرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا نہ کرنے پر حیریت(ع) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئیٹ کیا اور کہا ’سال ِ رواں یہ آٹھواں جمعتہ المبارک ہے جب جامع مسجد سرینگر جانے کے تمام راستے مسدود کردئے گئے اور نماز جمعہ جیسے اہم فریضے کی ادائیگی سے طاقت کے بل پر روکا گیا ،یہ حکمرانوں کی واضح بوکھلاہٹ اور آمریت کا بدترین مظاہرہ ہے ‘۔مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی نے8جولائی بروز اتوار کیلئے حزب کمانڈر بر ہان وانی کی دوسری برسی کے سلسلے میں کشمیر کی بند ھ کی کال دے رکھی ہے جبکہ اس روز قصبہ ترال میں عوامی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے ،تاہم مزاحمتی لیڈران کے خلاف جمعہ کے روز کریک ڈائون شروع کیا ۔سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق خانہ نظر بند ہیں جبکہ محمد یاسین ملک کو گرفتار کرکے تھانہ نظر بند رکھا گیا ہے ۔اس کے علاوہ دوسرے مزاحمتی لیڈران کو بھی تھانہ وخانہ نظر بند رکھنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ،جو غالباً سوموار تک جاری رہے گا ۔دریں اثناء کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وادی بھر میں سیکورٹی کڑے انتظامات کئے گئے ہیں ۔حساس علاقوں اور قصبوں میں فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ وادی بھر میں امکانی جلسے ،جلوسوں اور ریلیوں کو روکنے کیلئے دفعہ144 سی آر پی سی نافذ کیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ کسی بھی طرح کے جلسے پر آئندہ دو روز تک پابندی عائد رہے گی اور ایک جگہ پر ایک ساتھ 4افراد جمع نہیں ہوسکتے ۔کسی بھی جلسے کیلئے ضلع انتظامیہ کی اجازت لینے کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔

Share This Article