نئی دلی مذاکراتی عمل میں کسی بھی قسم کے شرائط نہ رکھے
سرینگر /04 جون / غیر مشروط مذاکرات کو امن و امان کی بحالی کیلئے پہلا قدم قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے مسئلہ کشمیر کے تمام متعلقین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے شرائط بالائے طاق رکھ کر خلوص نیت کیساتھ مذاکرا ت کی میز پر آئیں تاکہ ریاست کا مستقبل سنور سکے اور آنے والی نسلوں کو خون خرابہ، مار دھاڑ ، ظلم و جبر اور افراتفری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ پہلے مذاکرات کی پیشکش کرتے ہیں اور پھر مذاکرات کیلئے شرائط عائد کرکے خود ہی کوئی عمل شروع ہونے سے پہلے اس پر بریک لگا دیتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مختلف وزراء الگ الگ مقامات پر متضاد آرا پیش کرتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ مذاکرات میں کوئی حرج نہیں تو کوئی کہتا ہے کہ مذاکرات نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق مرکزی سرکار کی پالیسی کیا ہے کسی کو خبر نہیں۔ مرکز میں اقتدار پر بیٹھی بھاجپا ووٹ بینک سیاسی کو ترجیح دے رہی ہے اور کشمیر سے متعلق کوئی بھی فیصلہ لینی سے کترا رہی ہے۔ ساگر نے کہا کہ مرکزی سرکار کی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے ہی آج کشمیر ایک بار پھر شعولوں کی نذر ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے مقامی نوجوانوں کی جنگجوؤں کی صفوں میں شرکت مودی سرکار کیلئے چشم کشا ہونا چاہئے ۔ یہ سب کچھ مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو تسلیم نہ کرنے اور یہاں کے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کا نتیجہ ہے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ مرکز کی مذاکراتی پیشکشوں کے تئیں کشمیریوں کی سرد مہری کوئی حیران کن بات نہیں کیونکہ ماضی میں کئی بار جموں وکشمیر کی قیادت کیساتھ مذاکرات کئے گئے اور ان مذاکرات میں وعدے کئے گئے لیکن جب ان وعدوں پر عملدرآمد کرنے کا موقع آیا تو اس سے انحراف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مرکز نے بار بار کشمیریوں کے احساسات اور جذبات کو مختلف طریقوں سے مجروح کیا جس کی وجہ سے دوریاں بڑھتی گئیں اور موجودہ حالات اس کی نشاندہی بخوبی کررہے ہیں۔ انہوں نے ریاست خصوصاً وادی کے موجودہ پُرآشوب اور پُرتناؤ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات کی بنیاد حل طلب مسئلہ کشمیر ہے۔ ساگر نے کہا کہ لوگ نہایت مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں ، مصیبت اور ظلم و جبر کے پہاڑ معصوم لوگوں پر ڈھائے جارہے ہیں۔ مرکز اور ریاستی حکومتیں حالات کو طاقت کے بلبوتے ہر ٹھیک کرنے کی غلطیاں بار بار دہرا رہے ہیں۔ انہوں نے مرکز کو مشورہ دیا کہ وقت ضائع کئے بغیر ہی تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کیا جائے۔ ساگر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی حل ہی خطے میں ہمیشہ کیلئے امن قائم کرسکتا ہے۔ نیشنل کانفرنس اقتدار میں ہو یا اقتدار سے باہر اس جماعت نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی وکالت کی اور اس سلسلے میں اسمبلی کے ایوان سے دو تہائی اکثریت سے اٹانومی کا روڑ میپ بھی پاس کیا اور ساتھ ہی یہ موقف بھی اختیار کیا کہ اگر اٹانومی سے بہتر کوئی حل ریاست کے تینوں خطوں کے عوام کو قابل قبول ہوگا تو نیشنل کانفرنس اسے سرخم کرکے تسلیم کریگی۔ اس موقعے پر پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران محمد سعید آخون، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر اور پیرآفاق احمد کے علاوہ کئی لیڈران تھے۔

