سسرال والوں پر قتل کرنے کا الزام ،ملوثین کو سزا دینے کا کیا مطالبہ
سری نگر:۴،جولائی : مہلوک سکھ خاتون کے اہلخانہ اور رشتہ داروں نے بدھ کو پریس کالونی سرینگر میں احتجاج کیا ۔احتجاجیوں کا الزام ہے کہ اُنکی بیٹی کو سسرال والوں نے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا ،لہٰذا واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے ملوثین کو سزا دی جائے ۔ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی نسبے کیس درج کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق مہلوک سکھ خاتون،جسے بقول اہلخانہ سسرا ل والوں نے قتل کیا ہے ،نے بدھ کے روز احتجاج کیا ۔پریس کالونی میں بدھ کے تروز پوجا نامی سکھ خاتون کے اہلخانہ اور رشتہ داروں جن میں خواتین بھی شامل تھیں ،نے صدائے احتجاج بلند کیا اور ملوثین کو سزا دینے کی مانگ کی ۔احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’ہم کیا چاہتے انصاف ،پوجا کیلئے انساف ‘ جیسے نعرے درج تھے جبکہ احتجاجیوں نے مہلوک سکھ خاتون کی تصاویر بھی ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں ۔پربجوت ایک بچے کی والدہ کی شادی6برس قبل ہوئی تھی ،کی نعش مہجور نگر سرینگر میں گزشتہ جمعرات کے روز اپنے کمرے میں لٹکی ہوئی پا ئی گئی تھی ۔تاہم بعد میں اُسے اہلخانہ اور رشتہ داروں نے الزام عائد کیا کہ اُسے سسرال والوں نے قتل کرد یا ۔احتجاجیوں میں شامل ایک احتجاجی نے بتایا ’ہم حقیقت جانا چاہتے ہیں ،کہ اُس روز اصل میں کیا ہوا تھا ‘۔ایک اور احتجاجی نے بتایا کہ پربجوت کو روزانہ بنیادوں پر تنگ طلب کیا جاتا تھا ،کیونکہ اُسکے سسر ال والے جہیز مانگتے تھے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اس معاملے کی نسبت ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا ۔انہوں نے گور نر این این ووہرا سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا از خود نوٹس لیں اور اُنہین انصاف فراہم کیا جائے ۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دفعہ174سی آر پی سی کے تحت معاملے کی نسبت کیس درج کیا گیا اور تحقیقات جاری ہے ۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ موت کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ بھی آنا باقی ہے ۔

