سوپور میں سماعت شکن دھماکہ افسر سمیت 4 پولس اہلکار ہلاک

جنوری62018تعمیل ارشاد نیوز ڈیسک

سوپور: شمالی قصبہ سوپور میں ہفتہ کی صبح سماعت شکن بارودی دھماکے میں ایک افسر سمیت4پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ متعدد دکانات رباہ ہوگئیں۔ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دھماکے میں پولیس کو پہنچے جانی نقصان پر دکھ کا افسوس کیا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی تعزیت اور دکھ کا اظہار کیا ۔

تفصیلات کے مطابق شمالی قصبہ سوپور میں پیش آمدہ قتلِ عام کی 25ویں برسی پر ہفتہ کو قصبے میں ہوئے ایک خوفناک وسماعت شکن بارودی بم دھماکے میں پولس کے 4 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ تین دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ گول مارکیٹ سوپور میں ہفتہ کی صبح ہوا ۔پولیس کے صوبائی سربراہ منیر خان نے اس دھماکے میں پولس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھماکہ ایک دکان کے نیچے رکھی گئی طاقتور بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک پولس اہلکاروں کی شناخت کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ یہ دھماکہ 6جنوری1993 کو قصبے میں پیش آمدہ سانحہ کی برسی کے موقعہ پر ہوا ہے۔ پچیس سال قبل آج ہی کے دن بی ایس ایف نے یہاں قریب 60افراد کو جاں بحق کرنے کے علاوہ بازار کو آگ لگادی۔اس واقعہ کی یاد تازہ کرنے کیلئے مزاحمتی قیادت نے آج سوپور میںہڑتال اور ایک پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم سرکار نے قیادت کا کریک ڈاون کرکے اس مجوزہ پروگرام کو ناکام بنادیا۔

اس دوران مہلوکین شناخت ہوگئی جن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر ارشاد احمد ساکنہ ڈوڈہ،محمد امین ساکنہ کپوارہ ،غلام نبی اور غلام رسول ساکنان سوپور کے بطور ہوئی ۔ادھرریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دھماکے میں پولیس کو پہنچے جانی نقصان پر دکھ کا افسوس کیا۔انہوں نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریر کرتے ہوئے کہا ”سوپور میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی خبر س±ن کر بہت ہی د±کھ ہوا۔میں مہلوکین کے خاندانوں اور و±رثا کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتی ہوں“۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا ۔

ادھر جی این ایس خبر رساں ادارے کے مطابق سوپور سماعت شکن دھماکے کی ذمہ داری عسکری تنظیم جیش محمد نے لی ۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جیش کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ افضل گورو اسکارڈ نے یہ دھماکہ انجام دیا ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے