سرینگر:حریت کانفرنس ”ع“نے حریت چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو انتظامیہ کی طرف سے ایک بار پھر خانہ نظر بند کرکے انہیں نماز جمعہ ادا کرنے اور تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے موقعہ پر واعظ تبلیغ سے روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران اقتدار کے نشے میں عوام کے دینی جذبات و اعتقادات کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔
موصولہ بیان میں کہا کہ میرواعظ کی سیاسی سرگرمیوں کو پہلے ہی سرکار نے انہیں مسلسل خانہ نظر بند رکھ کر محدود کر دیا ہے لیکن اب ان کے مذہبی فرائض اور بحیثیت میرواعظ ان کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے بھی روکا جا رہا ہے جو مذہبی حقوق کی کھلم کھلا پامالی کے مترادف ہےں اور سرکار کی جانب سے ایک معمول بن گیاہے۔
ترجمان نے سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میرواعظ کو خانہ نظر بند کرکے انہیں اپنے فرائض منصبی ادا کرنے سے روکنا اب تقریباً ایک معمول بنا دیا گیا ہے جس سے حکمرانوں کی عوامی جذبات کے تئیں بے اعتنائی اور قیادت کے تئیں انتقام گیرانہ سوچ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ بڑے افسوس اور سرکار کےلئے بحث شرم ہے کہ سال2018 شروع ہوتے ہی سرکار نے اپنے عوام کش پالسیوںاور ظالمانہ کارروائیوں کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے اور میرواعظ کو سال کے پہلے جمعہ پر ہی نظر بند کر کے انہیں نماز جمعہ ادا کرنے اور تاریخی جامع مسجد میں اپنے عقیدت مندوں اور نمازیوں سے مخاطب ہونے سے روکا۔ترجمان نے کہا کہ اس سے حکمرانوں کے وادی میں حالات پُر امن ہونے کے دعوﺅں کی قلعی کھل گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے عوام کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرکے ان پر عملاً پابندی عائد کی گئی ہے اور سیاسی ماحول کو بزور طاقت مکدر کرنے کے عمل میںبتدریج اضافہ کیا جارہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی انتقام گیرانہ کارروائیوں سے عوام اور قیادت کو خون سے سینچی ہوئے تحریک سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔ دریں اثناءتاریخی جامع مسجد کے امام حئی سید احمد نقشبندی نے اپنے خطبے میں میرواعظ کو نماز جمعہ ادا کرنے اور جامع مسجد میں واعظ تبلیغ سے روکنے پر سرکار کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے سوپورسانحہ کی برسی کے موقعہ پر شہدائے سوپور کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

