سری نگر’مرکزی اسکیموں کی عمل آوری کے دوران لاکھوں روپے خردبرد“اسکنڈ ل کی تحقیقات کیلئے ڈپٹی کمشنرکپوارہ کی تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی اڑھائی ماہ میں بھی رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہی جبکہ اس کمیٹی کوسات دنوں میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔
اُدھرحق اطلاع قانون کاسہارالیکرمالی بے ضابطگیوں کابھانڈاپھوڑنے والے نوجوان آرٹی آئی کارکن نے انکشاف کیاکہ اُسے ڈرادھمکاکرخاموش کرنے کیلئے اُس کیخلاف پولیس تھانے میں من گھڑت الزامات کے تحت کیس درج کروائے گئے تاہم ایس ایس پی ہندوارہ نے مجھے یہ تسلی دی کہ آپ کے ساتھ کوئی زیادتی یاناانصافی ہونے نہیں دی جائیگی ۔
کشمیر نیوزسروس کے مطابق بلاک ڈیولپمنٹ آفس قاضی آبادہندوارہ میںمختلف مرکزی اسکیموں کی عمل آوری کے دوران بڑے پیمانے پرمالی بے ضابطگیوں کامعاملہ گزشتہ اڑھائی ماہ سے تحقیق طلب پڑاہے کیونکہ ڈپٹی کمشنرکپوارہ کی جانب سے تشکیل شدہ تحقیقاتی کمیٹی نے ابتک نہ توزمینی حقائق کاپتہ لگایااورنہ اپنی رپورٹ پیش کی جبکہ مذکورہ کمیٹی کوایک ہفتے کے اندررپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔معلوم ہواکہ دیدارپورہ بھدراہ بالاقاضی آبادکے رہنے والے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان آرٹی آئی وسماجی کارکن پیربلال احمدباباولدشمس الدین بابانے حق اطلاع قانون کے تحت 23مئی2016کوبی ڈی اﺅدفترقاضی آبادمیں ایک درخواست جمع کراتے ہوئے سوچھ بھارت مشن ،اندراآواس یوجنا،نریگااورمنریگاجیسی مرکزی اسکیموں کی عمل آوری اوران اسکیموں کے تحت مستفیدہوئے افرادوکنبوں کے بارے میں جانکاری طلب کی ۔
ایک ماہ بعد23جون 2016کوبی ڈی اﺅدفترنے عرض دہندہ کوجومعلومات فراہم کیں ،اُن میں جن عام شہریوں کومرکزی اسکیموں کے تحت مالی معاونت فراہم کرنے کاذکرکیاگیاتھا،وہ نام اصل میں موجودنہیں تھے بلکہ متعلقہ دفترنے مالی بے ضابطگیوں اورمنظورنظرافرادبشمول ملازمین کوپہنچائے گئے مالی فوائدکوچھپانے کیلئے غلط معلومات کاسہارالیا۔نوجوان سماجی کارکن پیربلال نے بتایاکہ انہوں نے اس سلسلے میں ڈی سی آفس کپوارہ اور اسسٹنٹ ڈیولپمنٹ کمشنرہندوارہ کے دفترسے رجوع کرکے بی ڈی اﺅقاضی آبادکی جانب سے غلط وگمراہ کن معلومات فراہم کئے جانے کامعاملہ متعلقہ حکام کی نوٹس میں لایا۔
نوجوان آرٹی آئی کارکن کے بقول اے ڈی سی ہندوارہ نے متعلقہ تحصیلدارکوبی ڈی اﺅآفس قاضی آبادمیں ہوئی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے پرمعمورکردیااورمتعلقہ تحصیلدارنے24مارچ 2017کواے ڈی سی ہندوارہ کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں اسبات کی تصدیق کی کہ بلاک ڈیولپمنٹ آفس قاضی آبادکی جانب سے مختلف مرکزی اسکیموں کی عمل آوری سے متعلق فراہم کی گئی معلومات زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتی ہیں ۔
بتایاجاتاہے کہ اسسٹنٹ ڈیولپمنٹ کمشنرہندوارہ نے معاملے کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے متعلقہ بی ڈی اﺅدفترمیں تعینات افسروں اورملازمین کیخلاف ایف آئی آردرج کرنے کی سفارش ڈپٹی کمشنرکپوارہ کوبھیج دی ۔پیربلال کے مطابق ڈپٹی کمشنرکپوارہ نے بلاک ڈیولپمنٹ آفس قاضی آبادہندوارہ میں ہوئے اسکنڈل کی تحقیقات کیلئے14اکتوبر2017کو جوتحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ،اُس میں حیرت انگیزطورپرمتعلقہ بی ڈی اﺅکوبھی شامل رکھاگیاجبکہ کمیٹی کے دیگرممبران میں بی ڈی اﺅکپوارہ،بی ڈی اﺅہندوارہ اورپنچایت انسپکٹرقاضی آبادبھی شامل ہیں ۔
ڈپٹی کمشنرنے مذکورہ کمیٹی کوتحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کیلئے ایک ہفتے کی ڈیڈلائن دی لیکن اب تک نہ تومذکورہ کمیٹی نے لاکھوں روپے مالیت کی بے ضابطگیوں کی زمینی سطح پرکوئی تحقیقات عمل میں لائی اورنہ اڑھائی ماہ گزرجانے کے باوجودتحقیقاتی رپورٹ ڈپٹی کمشنرکپوارہ کوپیش کی گئی ہے ۔ نوجوان آرٹی آئی وسماجی کارکن پیربلال احمدبابانے کے این ایس کومزیدبتایاکہ اصل میں سوچھ بھارت مشن کے تحت قاضی آبادبلاک کے تحت آنے والے دیہات میں جو70کے لگ بھگ بیت الخلاءتعمیرکروائے گئے ،اُ ن میں سے 50بیت الخلاءتعمیرکرنے کیلئے سرکاری ملازمین اوربی ڈی اﺅدفترقاضی آبادمیں تعینات سرکاری اہلکاروں ،اُنکے قریبی رشتہ داروں اورسیاسی اثرورسوخ رکھنے والے کنبوں کوہی مقررہ رقم فراہم کی گئی جبکہ اصل مستحق کنبوں کونظراندازکیاگیا۔آرٹی آئی کارکن نے انکشاف کیاکہ بلاک ڈولپمنٹ دفترقاضی آبادمیں ہوئی مالی بے ضابطگیوں کاپردہ فاش کرنے پراُنھیں ڈرانے دھمکانے کیساتھ ساتھ ذہنی دباﺅکاشکاربھی بنایاگیا۔انہوں نے کہاکہ پولیس تھانہ کرالہ گنڈمیں اُن کیخلاف سنگباری کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی پاداش میں کئی ایف آئی آردرج کروائے گئے ۔تاہم پیرہلال نے بتایاکہ جب وہ اس سلسلے میں ایس ایس پی ہندوارہ غلام جیلانی وانی سے ملے توپولیس کے مذکورہ اعلیٰ افسرنے اُسکوتسلی دی کہ آپ کے ساتھ کوئی زیادتی یاناانصافی ہونے نہیں دی جائیگی ۔

