سرینگر عالمی انسانی حقوق کے دن کے حوالے سے حیدرپورہ میں مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کی طرف سے ایک سیمینار منعقد ہونے جارہا تھا، جس پر حکومت نے قدغن لگادی۔ مشترکہ قیادت نے مجوزہ سیمینار پر پابندی عائدکرنے کی کارروائی اورآزادی پسند قائدین اور کارکنان کے گھروں پر چھاپوں کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ موصولہ بیان میں انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں عالم انسانی حقوق کے دن کے حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے، مگر جموں کشمیر واحد ایک ایسا بدنصیب خطہ ہے جہاں اس روز بھی پرامن پروگراموں پر پابندیاں عائد کی جاتی ہےں۔ سنیچر کے دن مشترکہ مزاحمتی قیادت نے حیدرپورہ میں ”کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالیاں اوراقوامِ عالم کی مجرمانہ خاموشی“عنوان کے تحت ایک روزہ سیمینار بُلایا تھا، جس پر پولیس نے پابندی لگادی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر کسی کو بھی سیمینار کے مقام تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ سید علی گیلانی بدستور اپنے گھر میں نظربند ہیں، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمرفاروق کو بھی اپنے گھر میں نظربند کردیا گیا ہے اور محمد یٰسین ملک کے گھر اور دیگر رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے ڈال کرانہیں تلاش کیا جارہا ہے ۔ تحریک حریت صدردفاتر واقع حیدرپورہ کو مکمل طور سیل کردیا گیا اور کسی بھی فرد کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس پورے علاقے میں سرکاری فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں کو تعینات کرکے جنگ جیسی صورتحال پیدا کردی گئی۔ مزاحمتی قائدین نے حکومتی کارروائی کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ سیمینار ایک مکتبی (Accadamic)نوعیت کا پروگرام تھا، جس میں مقررین جموں کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو عالمی سطح پر اُجاگر کرانے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر بات کرنے والے تھے۔ حکمرانوں کی جانب سے چاردیواری کے اندر منعقد ہورہے سیمینار جس میں 150افراد مدعو کئے گئے تھے، پر پابندی عائد کرکے ان کے اس جمہوری دعاوی کا کھلا تضاد ہے کہ بھارت بڑا جمہوری ملک ہے اور یہاں سب کو اپنی بات کہنے کا حق ہے، اس سے یہ بھی عیاں ہوجاتا ہے کہ حکمران کس قدر مزاحمتی لیڈرشب سے خائف اور خوفزدہ ہیں کہ مکتبی پروگراموں پر بھی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں اور اس سے ان کے ان دعوو¿ں کی قلعی کھل جاتی ہے کہ کشمیری لوگ آزادی پسندوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے کہا کہ 1947ءمیں یو این او نے ایک چارٹر تیار کیا جس کا مقصد انسانی زندگی کا تحفظ یقینی بنانا تھا، لیکن اس ادارہ نے 1947ءمیں ہی اپنے وجود پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا جب انہوں نے جموں میں مسلمانوں کے اُس قتل عام پر خاموشی اختیار کی جس کے تحت ڈوگرہ فوج، بھارتی فوج اور ہندو فرقہ پرستوں نے جموں صوبے میں 5لاکھ مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا اور اُس کے بعد آج تک بھارت کی قابض افواج نے جموں کشمیر کے متنازعہ خطے پر انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا ارتکاب کرتے ہوئے اب تک ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو شہید کردیا، مگر اقوامِ متحدہ جو انسانی حقوق کا علمبراد ہونے کا دعاوی ہے نے اپنا کردار نہیں نبھایا۔ موصولہ بیان میںمزاحمتی قائدین نے کہا کہ جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس پر بھارت نے 1947ءمیں جبری قبضہ کیا اور یہ بھارت تھاجو مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں لے گیا جہاں کل ملاکر 18قراردایں پاس کیں گئیں اور جن میں کہا گیا کہ جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور یہاں کے عوام کو حقِ خود ارادیت کا موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے مستقل کا فیصلہ کرسکیں۔ ان قراردادوں پر بھارت اور پاکستان کے لیڈروں نے بھی دستخط کئے اور 1952ءمیں بھارت کے اُس وقت کے وزیرِ اعظم پنڈٹ جواہر لعل نہرو نے لالچوک میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم جبری شادی اور جبری قبضے کے قائل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے نشہ¾ قوت میں مست ہوکر اپنے ان وعدوں سے انحراف کرتا آیا ہے اور ان وعدوں کا ایفاءکے حوالے سے جموں کشمیر کے مظلوم عوام جدوجہد کررہے ہیں۔ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ بین الاقوامی چارٹر کے مطابق ایک انسان کے لیے جو حقوق اصولی طور تسلیم کرلیے گئے ہےں، ان میں سب سے زیادہ مقدم حقِ خودارادیت ہے، البتہ بھارت پچھلے 71سال سے جموں کشمیر پر یہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف قابض ہے اور وہ یہاں کے لوگوں کی آواز دبانے کے لیے ان پر بے پناہ مظالم ڈھارہا ہے، لاکھوں نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اُتارا دیا گیا ہے، 10ہزار کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کردیا گیا ہے اور 10ہزار کو حراست میں لیکر ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے، 7ہزار سے زائد بے نام قبریں دریافت ہوگئی ہیں، جن کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہے کہ ان میں کن لوگوں کو دفن کیا گیا ہے اور انہیں کس جرم میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا ہے، ساڑھے 7ہزار سے زائد خواتین کی یا تو اجتماعی عصمت دری کی گئی ہے یا ان کے ساتھ دست درازی کی گئی ہے اور سو کے قریب نوجوانوں کی پیلٹ گنوں کے ذریعے بینائی سے محروم کردیا گیا۔ انہوں نے کہا سیاسی سرگرمیوں پر مکمل طور پابندی لگادی گئی ہے اور آزادی پسند لیڈروں کے سانس لینے پر بھی پہرے بٹھادئے گئے ہیں۔ قائدین اور کارکنان کی سیاسی سرگرمیوں پر مکمل طور پابندی عائد کردی گئی ہے اور ان کو غیرقانونی اور غیر انسانی قانون پی ایس اے کے تحت جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے اور پی ایس اے کا بے دریغ استعمال کرکے ان کو جیل سے باہر آنے کے تمام راستے مسدود کردئے جاتے ہیں۔ آزادی پسند راہنماو¿ں نے کہا کہ جموں کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر موجود ایک مسلمہ حقیقت ہے اور یہ اس ادارے کی منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت پر دباو¿ ڈالے کہ جموں کشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرے اور ساتھ ہی جموں کشمیر میں بھارت کی قابض فورسز کے ہاتھوں ہورہے جرائم کا سنگین نوٹس لینا چاہئے، مگر یو این سے وابستہ بااثر ممالک کے بھارت کے ساتھ تجارتی اورسیاسی مفادات وابستہ ہیں جن کے بنا پر یہ ادارہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا اقوامِ متحدہ نہ صرف فلسطین، جموں کشمیر، عراق، افغانستان، سیریا، لبنان اور دیگر ممالک کی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار ہے، بلکہ پوری دنیا میں جو بھی بدامنی جاری ہے اس کا ذمہ دار بھی یہی ادارہ ہے اور جب تک یہ ادارہ جموں کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں اپنے موثر کردار ادانہیں کرے گا اس ادارے کی کھوئی ہوئی اعتباریت اور ساکھ بحال نہیں ہوسکے گی۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے 10دسمبر عالمی انسانی حقوق کے دن کے حوالے دئے گئے پروگرام کا اعادہ کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل دہرائی کہ اس روز مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کریں، جبکہ شام کے اوقات میں مکمل بلیک آوٹ کرکے جموں کشمیر میں ہوری انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کو اجاگر کریں۔ اسی روز بعد نماز ظہر مسجد حمزہ لالچوک میں تینوں قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک ایک احتجاجی جلوس کی قیادت بھی کریں گے اور یو این او آفس سونہ وار کو ایک میمورنڈم پیش کریں گے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا بھرپور تعاون پیش کریں۔

