بھارت کشمیرکی تحریک آزادی کو داعش کا نظریہ بتانا بند کرے:خورشید محمود قصوری

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

مانیٹر نگ ڈیسک//   پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھارت کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں نئی اٹھنے والی دہلی مخالف تحریک کو بھارت داعش سے جوڑنے کی کوشش نہ کرے۔نئی دہلی میں بھارت پاکستان تعلقات پر ہونے والی اجلاس کے دوران خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام میں اٹھنے والی نئی تحریک کو داعش سے جوڑنا انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مظاہروں کے دوران داعش کے جھنڈوں کا سامنے آنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ کشمیری عوام میں کچھ انتہا پسند عناصر بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا میں چلنے والی رپورٹس کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ مظاہروں کے دوران پاکستانی جھنڈے اٹھائے گئے تھے جبکہ کچھ داعش کے جھنڈے بھی وہاں دیکھے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ کشمیرکا معاملہ اگر سیاسی بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا تو شاید یہ معاملہ ہماروں ہاتھوں سے ہی نکل جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا دن نہ آئے جب کشمیریوں کے ہاتھوں میں پاکستانی جھنڈوں کے بجائے داعش کے جھنڈے جگہ لیں۔

خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع کے باوجود دونوں ممالک کی جانب سے مذاکرات کی بحالی پر بڑی تعداد میں حمایت ملنے پر بہت خوشی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں حالات ناساز ہیں جس کی وجہ سے علاقائی تعاون اور ساو¿تھ ایشین ایسوسی ایشن برائے ریجنل کوآپریشن (سارک) کے اجلاس بھی منعقد نہیں کیے جارہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اس سوچ سے باہر آجائے کہ وہ پاکستان کو اکیلا کرسکتا ہے یا کسی تیسری قوت کے ذریعے پاکستان کے مفاد کو ختم کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں اطراف سے جنگ نہیں جیتی جاسکتی تو بہتر یہی ہے کہ امن کا راستہ اختیار کیا جائے جس کے لیے جلد از جلد مذاکرات کرانا ہماری پہلی ترجیح ہو۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے