بندشوں ،پر تشدد جھڑپوں اور ہڑتال کے بیچ نماز جنازوں میں بے شما ر لوگوں کی شرکت ،جلوس جنازہ میں جنگجو بھی نمودار
شوپیان کے درجنوں دیہات میں پُر تشدد جھڑپیں ، ٹیر گیس شلنگ ، پیلٹ و بلٹ فائرنگ ، درجنوں افراد مضروب
سرینگر/13جنوری /سی این آئی/ سخت ترین بندشوں ، پُر تشدد احتجاجی مظاہروں اور مکمل ہڑتال کے بیچ درجنوں نماز جنازوں کی ادائیگی کے بعد یاری پورہ جھڑپ میں جاں بحق البدر کمانڈر اور اس کے ساتھی کو آبائی علاقوں میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیااور نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اسی دوران سوگن شوپیان اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب البدر کمانڈر کے نماز جنازہ میں شرکت کرنے کیلئے لوگوں کی نقل و حمل پر روک لگائی گئی اور بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تاہم مشتعل مظاہرین نے بندشوں کی پراہ کئے بغیر سوگن شوپیان کا رخ کیا جس دوران فورسز اور مظاہرین کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی جبکہ فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کے علاوہ پیلٹ و بلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد مضروب ہوگئے جن میں سے کئی پانچ کو شدید زخمی حالات میں سرینگر منتقل کیا گیا ۔ پُر تشدد جھڑپوں کے بیچ فوجی گاڑی کی زد میں آکر ایک دوشیزہ بھی شدید طور زخمی ہو گئی ۔ سی این آئی کے مطا بق کاٹھ پورہ یاری پورہ کوگام میں شبانہ خونین معرکہ آرائی کے دوران دو مقامی جنگجو جاں بحق ہو گئے جن کی شناخت البدر کمانڈر زینت الاسلام عرف ڈاکٹر عثمان ساکنہ سوگن شوپیان اور شکیل احمد ڈار ساکنہ چلی پورہ شوپیان کے بطور ہوئی ۔ اسی دوران اتوار کی صبح دونوں جنگجوئوں کی نعش آبائی علاقوں میں پہنچائی گئی تو اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ ردن بھر جاری رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی دوران مہلوک جنگجوئوں کے آبائی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس دوران نوجوانوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ حالات پر قابو پانے کیلئے دونوں جاں بحق جنگجوئوں کے آبائی علاقوں کو سیل کر دیا گیا جبکہ تمام داخلی و خارجی راستوں کو سیل کر دیا گیا ۔اور کسی کو بھی آنے یا نے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اسی دوران جونہی زینت اسلام کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو شوپیان اور پلوامہ کے درجنوں علاقوں کے لوگوں نے بندشوں کی پراہ کرنے کے بغیر ہی سوگن شوپیان کا رخ کرنا شروع کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ اسی دوران درجنوں مقامات پر فورسز اور مشتعل ہجوم کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی جس دوران فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا اور جب حالات قابو سے با ہر گئے تو فورسز نے فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایک درجن مظاہرین زخمی ہو گئے جن میں سے کئی ایک کو نازک حالات میں سرینگر منتقل کیا گیا ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ مشتعل ہجوم نے سوگن شوپیان پہنچنے میں کامیابی حاصل کی جبکہ حالات میں مزید خرابی کے پیش نظر انتظامیہ نے علاقے سے بندشوں کا نفاذ ہٹایا دیا ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ مکمل ہڑتال کے بیچ شوپیان ، پلوامہ اور کولگام کے درجنوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے مہلوک جنگجوئوں کے آبائی علاقوں کا رخ کیا جس فوران انہوں نے جاں بحق جنگجوئوں کے نماز جنازے ادا کئے گئے ۔عین شاہدین کے مطابق لوگوں کی بھاری تعداد کے پیش نظر قریب البدر کمانڈر زینت الاسلام کا نماز جنازہ ایک درجن مرتبہ نما ز جنازہ ادا کیا گیا ،۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو ئوںکے نماز جنازوں میں ہزاروں لوگوں کی تعداد میں شرکت کی جس کے بعد انہیں اپنے آبائی مقبروں میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جاں بحق جنگجوئوں کے یاد میں جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہے ۔ ادھر ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق جنگجوئوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے کئی جنگجوئوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران عسکریت پسندوں کو سلامی بھی دی گئی ۔ تاہم پولیس ذرائع نے اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ۔ نمائندے کے مطابق مہلوک جنگجوئوں کے تجہیز و تکفین کے بعد علاقے میں اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب نوجواانوں کی ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ۔ آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں حالات کشیدہ بنے ہوئے تھے ۔
