ٹویٹر صارفین کی جانب سے شدید رد عمل آنے کے بعد اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا
سرینگر/یکم جنوری /سی این آئی/ نئے سال کے آغاز پر امریکی فوج نے معافی مانگ لی امریکی فوج نے نئے سال نو پر بم برسائے جانے کے بیان پر معافی مانگی۔امریکی فوج نے سال 2019ء کے موقع پر کی جانے والی اپنی ایک ٹویٹ پر معافی مانگی ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے نئے سال کے آغاز پر ایک تصویر جاری کی تھی جس میں ایک جہاز کو بم برساتے دکھایا گیا۔ٹویٹ میں امریکی فوج کے ترجمان کی جانب سے لکھا گیا ہر سال کی طرح ٹائمز اسکوائر پر بڑی گیندیں برسانے کی روایت ہے اگر کہیں ضرورت پڑی تو ہم اس سے کئی بڑی اور بڑی چیزیں برسانے کے لیے تیار ہیں۔امریکی فوج کی طرف سے اس ٹویٹ کے ذریعے دئیے جانے والے بیان سے تاثر ملا کہ نئے سال کے آغاز پر طیارے سے بم برسانے کا اشارہ دیا جا رہا ہے جس پر ٹویٹر صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی اور اس ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ٹویٹر صارفین نے اس قسم کی ٹویٹ کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی تنقید کی گئی۔ٹویٹر صارفین کی جانب سے شدید رد عمل آنے کے بعد اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔اور بعدازاں امریکی اسٹیٹجک کمانڈ نے اس کی وضاحت بھی کی۔امریکی اسٹیٹجک کمانڈ نے ٹویٹڑ کے ڈیلیٹ کیے جانے کے بعد نیا بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس سے قبل جاری کردہ بیان ہماری روایت کے عکاس نہیں جس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔امریکی اسٹیٹجک کمانڈ نے مزید لکھا کہ ہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سیکورٹی کے لیے وقف ہیں۔
امریکی فوج نے نئے سال نو پر بم برسائے جانے کے بیان پر معافی مانگی

