اسمبلی کا تحلیل کیا جانا متعلقین کے مابین ’’میچ فکسنگ‘‘ کا معاملہ ہے /انجینئر رشید

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Photo

کہا نام نہاد گرینڈ ایلائنس میں شامل تین میں سے ایک بھی پارٹی سرکار بنانے میں سنجیدہ ہی نہیں تھی

سرینگر/22نومبر: عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے گورنر ستیاپال ملک کی جانب سے جموں کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرنے کو مختلف متعلقین کے مابین ’’میچ فکسنگ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ریاست میں ’’کنٹرولڈ ڈیموکریسی‘‘ہے۔سی این آئی کو ارسال کردہ ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا’’نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور کانگریس کی حکومت سازی کی زبردست کوششوں کے دوران گورنر ستپال ملک کا اسمبلی کو تحلیل کرنا غیر اخلاقی ہی نہیں بلکہ غیر آئینی بھی ہے لیکن گرینڈ ایلائنس کے شرکاء کا اس اقدام پر ردعمل مایوس کن ہے۔چناچہ فاروق عبداللہ نے گورنر کے فیصلے کا خیرمقدم کرنے میں ایک اسکینڈ بھی ضائع نہیں کیا اور کانگریس نے بھی اپنے بیانات تبدیل کرنا شروع کئے جبکہ پی ڈٰ پی نے اس فیصؒ ے کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلہ نہ لیکر ان مقاصد اور منصوبوں کو بے نقاب کردیا کہ جو اسکے گرینڈ ایلائنس میں شامل ہونے کے ڈرامہ کے پیچھے کارفرما تھے۔یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ تین میں سے کوئی بھی پارٹی سرکار بنانے میں سنجیدہ نہیں تھی بلکہ خود کو دفعہ35A اور 370کے محافظوں کے بطور پیش کرکے یہ پارٹیاں دراصل اپنی بقا اور سجاد لون کوسرکار بناکر ان میں سیندھ لگانے سے روکنے کی کوشش کر رہی تھیں‘‘۔انجینئر رشید نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کا گورنر کے اقدام کا خیر مقدم کرنے میں تھوڑا بھی وقت نہ لگانے سے ثابت ہوچکا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی گورنر اور مرکزی سرکار کے ساتھ سانٹھ گانٹھ تھی جبکہ ایسا لگتا ہے کہ پی ڈی پی نے بھی اسمبلی کو تحلیل کرنے پر درپردہ رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ وہ خود کو یکجا رکھ سکے۔انہوں نے کہا’’یہ بات صاف ہے کہ بھاجپا سجاد لون کو بھی ناراض کرنا چاہتی تھی لہٰذا اس نے نام نہاد گرینڈ ایلائنس کے دباؤ کو بہانہ بناکر لون کو بھی اسمبلی کو تحلیل کرانے پر رضامند کرادیا اور یوں پی ڈی پی کو تقسیم در تقسیم کے خدشات سے بچالیا گیا۔اس فیصلے سے گورنر ملک نے کئی نشانے سر کرنے کی کوشش کی جس میں ایک نیشنل کانفرنس کو خوش کرنا بھی تھا کیونکہ وہ کسی بھی حال میں پی ڈی پی کو ایک بار پھر سرکار کی قیادت کرتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔اس بات میں کوئی شک باقی نہیں ہے کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس اپنی اپنی انا پر اب بھی اڑی ہوئی ہیں اور انکا واحد مقصد اقتدارحاصل کرنا ہے حالانکہ انہوں نے نام نہاد گرینڈ ایلائنس بناکر ایک بار پھر لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی ہے بصورت دیگر نئی دلی کسی بھی حال میں جمہوریت کا قتل کرنے کی جرأت نہیں کرسکی ہوتی‘‘۔انجینئر رشید نے مزید کہا کہ نئی دلی نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسے اپنے ’’پراکسیز‘‘کیلئے لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی تھی تاکہ ایک طرف آئیندہ انتخابات میں لوگوں کی بھاری شرکت کو یقینی بنایا جاسکیاور دوسری جانب اسکے پراکسیز کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔انجینئر رشید نے لوگوں سے ان ساری سازشوں کو سمجھتے ہوئے نئی دلی اور اسکے گماشتوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی اپیل کی اور اس بات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا کہ نام نہاد علاقائی پارٹیاں کس طرح مختلف ڈرامہ رچا کر مسئلہ کشمیر کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

Share This Article