شیر کشمیر اور اُن کی لیڈرشپ لاثانی، صحرائی کی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں/نیشنل کانفرنس

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

صحرائی کی جماعت نے 1971میں محاذرائے شماری کو سبوتاژ کرنے کیلئے اسمبلی الیکشن میں حصہ لیا

سرینگر/22نومبر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے تحریک حریت چیئرمین اشرف صحرائی کے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کیخلاف بیان کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف کشمیر کی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کیلئے اس قسم کے حقیر حربے اپنا رہے ہیں۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ اشرف صحرائی اُن افراد کیخلاف لب کشائی کرنے سے کترارہے ہیں جنہوں نے اُن کے ساتھی کا قتل کیا ، اس کے بجائے وہ اُس شخص کو اس قتل کیلئے موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں جو 1982میں فوت ہوئے ہیں، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت کیخلاف زہرافشائی موصوف کا واحد کام ہے ۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ ریاست جموں وکشمیر کے سب سے قدآور لیڈر تھے اور آج تک اُن کے برابر کا کوئی لیڈر کھڑا نہیں ہوا۔ شیر کشمیر کا لقب انہیں یہاں کے عوام نے دیا تھا کیونکہ لوگ اُن کی لیڈر شپ اور اُن کے فیصلوں میں یقین رکھتے تھے۔ شیر کشمیر کے آخری صفر میں لوگوں کی شرکت اُن کے قدوقامت اور سیاست میں اعلیٰ مقام کی عکاسی خود بہ خود بیان کرتی ہے۔ شیر کشمیر کے ناقدین بھی ریاست اور ریاستی عوام کیلئے اُن کی قربانیوں کو لاثانی قرار دینے سے نہیں رکتے تھے۔ برصغیر ہند و پاک سمیت دنیا بھر کے دانشوروں نے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے قد و قامت اور عظیم لیڈر شپ کو لاثانی قرار دیاہے۔ علامہ اقبال ؒ نے کہا کہ ’شیخ محمد عبداللہ نے کشمیریوں کے دل سے ظالم کا خوف دور کیا۔ وہ ایک نڈر رہنما ہے‘‘۔مشہور و معروف شاعر اور ادیب ایم ڈی تاثیر لکھتے ہیں کہ ’’کشمیر میں قوم پرستی شیخ محمد عبداللہ کی دین ہے ‘‘۔خان عبدالغفار خان کہتے ہیں ہیں ’’آپ کا رہنما شیخ محمد عبداللہ آپ پر خدا کا فضل ہے۔‘‘فیلڈ مارشل صدر ایوب خان نے کہا کہ ’’شیخ محمد عبداللہ ایک شیر دل رہنما ہے ۔‘‘فیض احمد فیض کے مطابق ’’کشمیر اور اہل کشمیر کی سیاسی بیداری، اپنی خودی کی پہچان اور اپنے تشخص کے ادراک کا منظرنامہ اس برصغیر کی تاریخ میں ایک نئے اور مستقل باب کا اضافہ ہے جو رہتی دنیا تک شیر کشمیر مرحوم سے منسوب رہے گا۔ میں اُنہیں مہاتماگاندھی اور خان عبدالغفار خان کی صف کا رہنما مانتا ہوں۔‘‘ علی محمد ساگر نے کہاکہ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے قد و قامت، لیڈرشپ اور عوامی مقبولیت کو صحرائی جیسے افراد کی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحرائی اور اُن کے جماعت نے 1971میں شیر کشمیر کی تحریک کیخلاف جاکر اُس وقت اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا جب تحریک محاذ رائے شماری جوبن بھی تھی اور ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اس تحریک کیخلاف کام کیا۔ کشمیری قوم آج بھی جاننا چاہتی ہے کہ اُس وقت صحرائی اور اُن کی جماعت نے رائے شماری کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کیلئے کیوں کام کیا؟جنرل سکریٹری نے کہا کہ شیر کشمیر کیخلاف صحرائی جیسے لوگوں کی بیان بازی سے اُن کی حصولیابیوں ، تاریخی و انقلابی اقدامات اور قدآور لیڈرشپ پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت کیخلاف بیان بازی کرکے اپنی حقیر تشہیر کرنا صحرائی اور اُن کی جماعت کا پرانا شیوا رہا ہے ۔

Share This Article