کشمیر کا گورنر ریاست میں گجرات کے طرز پر جمہویت نافذ کرنا چاہتا ہے /پی چدم مبرم

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں چاہتی کہ ریاست کے حالات بہتر نہ ہوں

سرینگر/22نومبر: ریاست جموں و کشمیرکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے رول پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے کہا ہے کہ کشمیر کا گورنر ریاست میں گجرات ڈیموکریسی عملارہا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی مخدوش سیاسی صورتحال کے بیچ اگرچہ مقامی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملاکر ریاست کی موجودہ صورتحال کو بہتری کی طرف گامزہ کرنے کیلئے سرکار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے گورنر کو گذشتہ روز ایک فیکس بھی ارسال کیا تھا تاہم گورنر ستیہ پال ملک نے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا ۔ گورنر کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سابقہ مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے کہا ہے کہ کشمیر کے گونر کو پارلیمنٹری ڈیموکریسی پسند نہیں اسلئے انہوں نے ریاست میں گجرات طرز کی جمہوریت لاگو کرنے کا من بنالیا ہے ۔سماجی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں سابقہ مرکزی وزیر نے لکھا کہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور پی ڈی پی کی مخلوط سرکار کے اختتام کے بعد یہاں کے سیاستی حالات مخدوش رہنے کی وجہ سے لوگ شدید مشکلات سے دوچار تھے اور جب پی ڈی پی، کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی غرض سے سرکار تشکیل دینے کا فیصلہ لیا تھا ریاستی گورنر نے اسمبلی کو تحلیل کیا جو ایک حریت کا مقام ہے ۔ انہوں نے لکھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ گورنر ستیہ پال ملک کو پارلیمانی ڈیموکریسی پر یقین نہیں ہے اسلئے وہ چاہتے ہیں کہ ریاست میں گجرات طرز کی ڈیمو کریسی نافذ العمل رہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریاست جموں و کشمیر کے حالات مد نظر تھے اس کے باوجود بھی مقامی اور جمہوریت پسند جماعتوں کو حکومت قائم کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بھاجپا ریاست کے حالات بہتر ہونا نہیں چاہتی ہے۔واضح رہے کہ چند دنوں سے ریاست جموں و کشمیرمیں حکومت سازی کے حوالے سے پیپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اور پی ڈی پی کے چند باغی ممبران اسمبلی سرگرم تھے جس کے بعد گذشتہ روز نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پی ڈی پی نے مشترکہ طور پر حکومت قائم کرنے کیلئے اپنی نوعیت کا پہلا اتحاد قائم کرکے سرکار بنانے کیلئے صلاح و مشور ہ کے بعد بدھ کے روز شام کے بعد حکومت سازی کے حوالے سے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کو تحریری طور پر آگاہ کیا ۔ تاہم ریاستی گورنر اور چیف سیکریٹری کو مرکزی سرکار نے دلی طلب کرلیا تھا جس کے بعد شام قریب 9بجے گورنر نے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا ۔

Share This Article