تہاڑجیل میں اسیرمزاحمتی لیڈرپیرسیف اللہ کی حالت

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

اہل خانہ کوتشویش لاحق،12سالہ بیٹااحساس محرومی کاشکار

سری نگر:١٥،جولائی:کے این این/ سیدعلی گیلانی کی سربراہی والی تحریک حریت کے محبوس لیڈربشیراحمدبٹ المعروف پرسیف اللہ کی صحت وسلامتی کولیکراُنکے اہل خانہ کوسخت تشویش لاحق ہے جبکہ محبوس مزاحمتی لیڈرکی اہلیہ اپنے بارہ سالہ اکلوتے بیٹے کولیکربھی سخت پریشان ہے جووالدکی دُوری کے باعث احساسِ محرومی کاشکارہورہاہے۔کے این این کے مطابق گزشتہ برس قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی جانب سے حوالہ فنڈنگ کیس درج کرنے کے بعدکشمیری مزاحمتی لیڈران کیخلاف ایک مہم شروع کردی ،اور24جوائی 2017کواین آئی اے نے7ایسے لیڈروں کی گرفتاری عمل میں لاکراُنھیں سری نگرسے نئی دہلی منتقل کیا۔گرفتارشدگان میں تحریک حریت سے وابستہ سینئرلیڈرپیرسف اللہ بھی شامل ہیں جودیگرنصف درجن لیڈران کے ہمراہ نئی دہلی کے تہاڑجیل میں نظربندہیں ۔پیرسیف اللہ کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ اُن کامحبوس لیڈرسے کوئی رابطہ نہیں جبکہ وہ کہتے ہیں کہ جب پیرسف اللہ سے ملنے کیلئے اُن کے بھائی تہاڑجیل گئے توانہوں نے پیرسیف اللہ کوکافی کمزورپایاکیونکہ موصوف کئی امراض میں مبتلاء ہیں ،اورجیل میں اُنھیں معقول طبی سہولیات میسرنہیں ۔پیرسیف اللہ کی اہلیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے گرفتارہونے کے بعدکبھی اپنے شوہرکیساتھ بات نہیں کی ۔وہ کہتی ہیں کہ میں اپنے محبوس شوہرکی سلامتی کولیکرسخت پریشان ہوں ۔ایک نیوزرپورٹ کے مطابق پیرسیف کی اہلیہ نے بتایاکہ اُنکے شوہرکئی امراض میں مبتلاء ہیں جن میں ٹیومریعنی سلعہ بھی شامل ہے ،اوراین آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری سے قبل پیرسیف اللہ کاصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں علاج بھی چل رہاتھاجبکہ سال 2016میں دوران حراست اُنھیں جیل سے سکمزاسی مرض کی بناء پرمنتقل کیاگیاتھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس مرض کاعلاج کرانے کیلئے اُنکے محبوس شوہرکونئی دہلی کے اپالواسپتال بھی جاناپڑتاتھاجہاں ڈاکٹرسدھیرکمارتیاگی اُن کاعلاج کرتے تھے ۔پیرسیف اللہ کی اہلیہ نے بتایاکہ وہ اپنے اکلوتے 12سالہ بیٹے فیصل جوکہ چھٹی جماعت کاطالب علم ہے، کولیکربھی پریشان ہیں جواپنے والدکی دوری کے سبب احساس محرومی کاشکارہورہاہے اوراکثروبیشتر کہتارہتاہے کہ پاپاکب واپس آکرہمارے ساتھ گھرمیں رہیں گے۔

Share This Article