11 اور 13جولائی کے پروگراموں کو حتمی شکل
سری نگر:٨،جولائی :/ نیشنل کا نفرنس نے صو بائی سطح کے اجلاس میں 11اور13جولائی کے پروگراموں کو حتمی شکل دی گئی ۔اس سلسلے میں کے این این کو موصولہ تحریری بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس صوبہ کشمیر کے تمام ضلع صدور ، ضلع سکریٹری اور دیگر عہدیداران کا ایک خصوصی اجلاس پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح منعقد ہوا، جس کی صدارت جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کی ۔اجلاس میں 11جولائی کومادر مہربان بیگم شیخ محمد عبداللہ کی 18ویں برسی اور 13جولائی کو 87واں یوم شہیدانِ قوم جموں وکشمیر کے پروگراموں کو آخری شکل دی گئی۔ اجلاس میں پارٹی صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، زون صدر ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، علی محمد ڈار، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ممبرانِ قانون سازیہ الطاف احمد کلو، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، شوکت حسین گنائی، قیصر جمشید لون کے علاوہ کئی لیڈران موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی محمدس ساگر نے بیگم اکبر جہاں، جنہیں ریاستی عوام مادر مہربان کے عوام سے نام پکارتے ہیں، کے تاریخ ساز کارکناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ نے مرحومہ کو دین و ونیا کی عظیم نعمت دین اسلام کی نعمت کے ساتھ ساتھ سیاسی سوجھ بوجھ بھی عطا کیا تھا۔انہوں نے شہیدانِ وطن کی عظیم قربانیوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان شہدائے قوم کی عظیم قربانیوں کی بدولت ریاست کے لوگوں کو عزت نفس اور اونچا مقام حاصل ہوا، جن شہدا نے گرم گرم خون بہاکر حق و انصاف کے لئے محض رضائے اللہ کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔ ان کی بدولت ریاست میں جمہوری کی بنیاد اور عوام حکومت قائم ہوئی۔ انہوں کہا کہ شہدا نے اپنا مشن پورا کیا ہے اور اس مشن کو آگے لیجانے کیلئے ہم پر اخلاقی فرض اور ایمان ہے۔ اس موقعے پر انہوں نے کہا کہ ان دو تقریبات کے بارے میں پارٹی نے 2الگ الگ پوسٹروں میں پروگرام کی ترتیب دی ہے اور پروگرام کے مطابق 11جولائی کو مقبرہ مادرِ مہربان واقع نسیم باغ صبح سویرے ہی قرآن خوانی کی مجلس آراستہ ہوگی جبکہ اجتماعی فاتحہ خوانی میں نائب صدر جناب عمر عبداللہ اور پارٹی سے وابستہ سینئر لیڈران، سابق وزرائ، ممبرانِ قانون سازیہ کے علاوہ کئی عہدیداران اور کارکنان بھی شرکت کریں گے۔ اجتماعی فاتحہ خوانی اور گلباری صبح 10بجے ہی انجام دی جائے گی۔اسی طرح 13جولائی کو بھی مزارِ شہدائے واقع خواجہ بازار کی قبروں پر گلبای اور فاتحہ خوانی کی جائے گی۔ کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ دونوں تقاریب میں اپنا شرکت یقینی بنائیں۔ اجلاس میں پارٹی لیڈران عرفان احمد شاہ،محمد سعید آخون، غلام محی الدین میر، پیر آفاق احمد، حاجی عبدالاحد ڈار، میر غلام رسول ناز، مشتاق احمد گورو، جگدیش سنگھ آزاد، غلام نبی بٹ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں شرکاء نے وادی کی موجودہ سیاسی اور سیکورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اپنے اپنے علاقوں کے مصائب و مشکلات اُجاگر کئے۔ دریں اثناء نیشنل کانفرنس خواتین ونگ صوبہ کشمیر کا بھی ایک خصوصی اجلاس آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر منعقد ہوا جس کی صدارت صدرِ صوبہ خواتین ونگ انجینئر صبیہ قادری نے کی۔ انہوں نے کہا کہ مادرِ مہربان کے دل میں کشمیر کے مظلوم اور محکوم قوم کی درد تھا۔ مادر مہربان نے ریاست میں تعلیم نسواں کو فروغ دینے میں جو تاریخی رول ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ گوجر بکروال اور پہاڑی جیسے پسماندہ لوگوں کی حالت زار پر وہ دن رات مایوس اور پریشان رہا کرتی ہیں اور اللہ کے فضل و کرم اور عوام راج کی بحالی ہونے کے ساتھ ہی مرحوم نے ان پسماندہ لوگوں کی زندگی خوشحال بنانے کیلئے انقلابی اور تاریخی اقدامات کئے۔ اس کے علاوہ مادرِ مہربان نے ریڈکراس سوسائٹی کی بنیاد بھی ریاست میں ڈالی اور مرحوم نے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے شانہ بہ شانہ تحریک آزادی کشمیر، کوئٹ کشمیر ، تحریک محاذ رائے شماری میں کلیدی رول ادا کیا۔

