پتھر کا جواب کسی بھی صورت میں گولی نہیں ہوسکتی،کیاکشمیریوں کا خون اتنا سستاہے؟
سری نگر:٧،جولائی :کے این این/ نیشنل کانفرنس ،کانگریس ،سی پی آئی ایم سمیت تمام مین اسٹریم جماعتوں نے کولگام شہری ہلاکتوں کی مذمت کی ۔نیشنل کانفر نس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ ،نائب صدر عمر عبداللہ ،کانگریس صدر غلام احمد میر ،سی پی آئی ایم ریاستی سیکر یٹری محمد یوسف تاریگامی نے کولگام واقعہ کی سخت الفاظ مین مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پتھر کا جواب کسی بھی صورت گولی نہیں ہوسکتی جبکہ کشمیریوں کا خون اتنا سستا نہیں کہ ہر روز بہا یا جائے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق مین اسٹریم جماعتوں نے کولگام میں 3عام شہری ہلاکتوں کی مذمت کی ۔اس سلسلے میںنیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے کولگام کے ریڈونی علاقے میں ایک دوشیزہ سمیت 3نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زبردست رنج و الم اور افسوس کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوموں کی ہلاکت کو کوئی بھی جواز نہیں بخشا جاسکتا، انسانی جان سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے اور پتھر کا جواب کسی بھی صورت میں گولی نہیں ہوسکتی۔دونوں لیڈران نے مرحومین کے جملہ سوگوران خصوصاً والدین کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ انہیں یہ صدمہ عظیم برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ انہوں نے ریاستی گورنر شری این این ووہرا پر زور دیا کہ گذشتہ3سال سے جاری مسلسل شہری ہلاکتوں پر بریک لگانے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے اور انسانی جانوں کا تحفظ ہر حال میں ممکن بنایا جائے۔ادھر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی صدر صدر ناصر اسلم وانی نے نوائے صبح کمپلیکس میں ایک پُرہجوم پریس کانفرنس میں شہری ہلاکتوں کی زبردست الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ کشمیریوں کو ایک سازش کے تحت پشت بہ دیوار کرنے کے ساتھ ساتھ خوف و دہشت کے ماحول میں دھکیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے یہاں نوجوانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے تاکہ یہاں کے عوام اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کا مطالبہ نہ کرسکیں۔پارٹی کی سٹیٹ سکریٹری سکینہ ایتو، پیرزادہ احمد شاہ، جنوبی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ضلع صدر کولگام ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی(ایم ایل اے ہوم شالی بُگ) اور صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار نے معصوموں کی ہلاکت پرشدیدردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلسل شہری ہلاکتوں کا ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 3سال سے شہری ہلاکتیں معمول بن کر رہ گیا ہے جس کی براہ راست ذمہ داری سابق پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت ہے، سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی حکومت لگاتا ر شہری ہلاکتوں اور انسانی جانوں کے زیاں پر روک لگانے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ادھر کانگریس صدر غلام احمد میر نے کولگام میں شہری ہلاکتوں کے واقعہ افسوس کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو گولی مار کر ابدی نیند سلا دینا قابل مذمت ہے جبکہ ایسے واقعات قیام امن کیلئے نقصان دہ ہے ۔انہوں نے اپنے بیان میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ امن وامان برقرار رکھیں ۔انہوں نے کہا کہ پتھرائو اور فورسز کی جوابی کارروائی سے صورتحال کشیدہ بن جاتی ہے ،جوکہ بقول انکے امن اور عوامی کے جان ومال کے مفاد میں نہیں ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے بعد لوگوں نے آزادی محسوس کی ،کیونکہ دونوں جماعتوں نے عوامی منڈیٹ کا اپنے اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر استحصال کیا۔انہوں نے فورسز کارروائی میں تین عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز کو احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کے دوران صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کیلئے کئی دیگر آپشنز موجود ہیں جبکہ ہلاکتوں سے صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں خون خرابے کو روکنے کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھائے ۔انہوں نے جاں بحق افراد کے اہلخانہ کے ساتھ تعزیت و ہمدردی کا بھی اظہار کیا ۔ادھر سابق وزیر مرکزی پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا’’یہ بہت ہی صدمے کی بات ہے کہ مرکزی حکومت نے کشمیر میں لاء اینڈ آرڈر کی بحالی کیلئے ایک ایسی پالیسی اپنائی ہے جس کے تحت عام شہریوں کو بھی مارا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہامیں آج کولگام میں ہوئی تین شہریوں کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہوں اور اِن ہلاکتوں کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ان کا کہناتھا دراصل زمینی سطح پر ایک ایسی کمانڈ قائم کی گئی ہے جس کے تحت فائر لوگوں کو مارنے کیلئے کھولا جاتا ہے نہ کہ زخمی کرنے کیلئے۔ یہ سب کچھ اُسی قانون کے ذریعے کیا جاتا ہے جس کو افسپاء کہا جاتا ہے اور اِ س میں کوئی بھی سپاہی اپنے افسر سے اجازت لئے بغیر ، مجسٹریٹ کی تو بات ہی نہیں ہے ، فائر کھول سکتا ہے اور کسی کو بھی مار سکتا ہے!۔پروفیسر سوز نے کہا حکومت ہند کو اتنی قتل و غارت کے بعد بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ افسپاء جیسے قانون سے زمین پر کچھ حاصل نہیں ہوگا اور اس سے صرف لوگوں کی ناراضگی مزید بڑ ھ چکی ہے اور بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ بات بھی بہت صدمے کی ہے کہ کشمیر میں Stardard Operating Procedure یعنی فائر کھولتے وقت کسی بھی انسانی جان کے خلاف مناسب طریقے سے فائر کرنا چاہئے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مارنا کسی قانون کے تحت جائز نہیں ہے بلکہ فائر کھولنا زخمی کرنے تک محدود ہونا چاہئے۔مجھے اس بات کیلئے بھی افسوس ہے کہ قومی حذب اختلاف کی جماعتیں بھی کشمیر میں شہری ہلاکتوں پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نیشنل اپوزیشن کیلئے یہ قتل و غارت اور اس پر خاموشی اور بھی غلط ہے کیونکہ انسانی حقوق سے متعلق ادارہ پہلے ہی ایک بے کار ادارہ بن چکا ہے ۔ یہ بات پہلے ہی حکومت ہند کو معلوم ہونی چاہے کہ افسپاء جیسے قانون نے زمینی سطح پر صرف کشمیر ی عوام کی ناراضگی کو بڑھایا ہے اور اس سے حکومت ہند کیلئے کوئی مسئلہ آج تک حل نہیں ہوا ہے۔ادھر ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے سوالیہ انداز میں کہا ’کیا کشمیریوں کا خون اتنا سستا ہے ؟‘۔انہوں نے کولگام میں شہری ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں صورتحال کو مزید ابتر کردیتی ہے۔

