میڈیکل کالج سرینگر سے منسلک5بڑ ے اسپتالوں میں طبی سروس مفلوج

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جونیئرڈاکٹروں کی ہڑتال:توڑکیلئے ’اسما‘لاگو
21ڈاکٹروں کوفارغ نہیں کیا، محکمہ صحت میں بھیج دیا:پرنسپل میڈیکل کالج سر ینگر

سری نگر:۴،جولائی :کے این این/ گورنرانتظامیہ نے گورنمنٹ میڈیکل کالج سے منسلک پانچ بڑے شفاخانوں میں تعینات لگ بھگ 1200جونیئرڈاکٹروں کی ہڑتال کادم خم توڑنے کیلئے ضروری خدمات کی بحالی سے متعلق سخت قانون’اسما‘کانفاذعمل میں لایاہے۔اُدھرڈاکٹروں کی متواترہڑتال کے باعث شہرسری نگرمیں قائم5بڑے سرکاری میں صحت خدمات بُری طرح سے متاثرہوچکی ہیں ۔مذکورہ ڈاکٹروں کی انجمن ’ریذنڈنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن‘ کاکہناتھاکہ 21جونیئرڈاکٹروں کوہڑتال کرنے کی پاداش میں ج ایم سی کی خاتون پرنسل نے نوکری سے فارغ کردیاہے جبکہ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹرنثارالحسن کے بقول پرنسپل میڈیکل کالج سرینگرڈاکٹرثامیہ رشیدنے اُنھیں بتایاکہ 21جونیئرڈاکٹروں کوفارغ نہیں کیاگیابلکہ اُنکومحکمہ صحت میں بھیج دیاگیاہے ۔اُدھرڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے ایک اوردھڑے کے صدرڈاکٹرسہیل نائیک کاکہناتھاکہ اصل میں یہ میڈیکل کالج سے منسلک ڈ اکٹروں اورصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں تعینات ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں پائی جانے والی تفاوت کاہے جسکودورکرکے ہی یہ معاملہ سلجھایاجاسکتاہے۔کشمیر نیوزنیٹ ورک کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگرسے منسلک اسپتالوں میں تعینات لگ بھگ1200جونیئرڈاکٹروں کی ہڑتال کے نتیجے میں سری نگرمیں قائم پانچ بڑے سرکاری اسپتالوں اسپتالوں بشمول صدراسپتال ،لل دیداسپتا ل،برزلہ اسپتال،دماغی مریضوں کیلئے مخصوص اسپتال اورامراض اطفال کیلئے مخصوص شفاخانہ جی بی پنتھ اسپتال میں طبی سہولیات کانظام مفلوج ہوکررہ گیاہے کیونکہ یہاں بغرض علاج ومعالجہ آنے والے بیماروں کی دیکھ بال یااُنھیں ضروری علاج فراہم کرنے کیلئے ڈاکٹرہی دستیاب نہیں ہیں ۔معلوم ہواکہ میڈیکل کالج سے منسلک پانچ بڑے شفاخانوں میں تعینات ڈاکٹروں اورصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں تعینات ڈاکٹروں کودی جانے والی تنخواہوں کامعاملہ فتنے کی اصل جڑہے ۔ذرائع نے بتایاکہ سبھی ڈاکٹرمختلف شعبوں میں ڈگریاں حاصل کرنے کے بعدمختلف اسپتالوں میں تعینات ہوتے ہیں ۔کچھ ڈاکٹرگورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگرسے منسلک پانچ بڑے اسپتالوں اورکچھ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں تعینات کئے جاتے ہیں لیکن ان ڈاکٹروں کودی جانے والی تنخواہوں میں کافی تفاوت پائی جاتی ہے۔ میڈیکل کالج سری نگراور صدراسپتال ،لل دیداسپتا ل،برزلہ اسپتال،دماغی مریضوں کیلئے مخصوص اسپتال اورامراض اطفال کیلئے مخصوص شفاخانہ جی بی پنتھ اسپتال میں تعینات ڈاکٹروں کی تنظیم ’ریذنڈنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن‘کے صدرڈاکٹرعرفان کاکہناہے کہ ریاستی سرکار نے ہماری مانگیں پوری کرنے کیلئے 3جولائی2018تک احکامات صادرکرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن آرڈرجاری نہیں کیاگیا،اسلئے ہم غیرمعینہ عرصے کی ہڑتال کرنے پرمجبورہوگئے۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنی مانگیں لیکرپرنسپل میڈیکل کالج سری نگرکے پاس جاناچاہتے تھے لیکن انہوں نے ہم سے بات چیت کے بجائے 21جونیئرڈاکٹروں کوفارغ کرنے کاحکمنامہ جاری کردیا۔ڈاکٹرعرفان کاکہناتھاکہ پرنسپل میڈیکل کالج سرینگرکے اس حکمنامہ کیخلاف سبھی جونیئرڈاکٹروں نے اجتماعی طورپرمستعفی ہونے کافیصلہ لیاہے۔تاہم ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹرنثارالحسن کے بقول پرنسپل میڈیکل کالج سرینگرڈاکٹرثامیہ رشیدنے اُنھیں بتایاکہ 21جونیئرڈاکٹروں کوفارغ نہیں کیاگیابلکہ اُنکومحکمہ صحت میں بھیج دیاگیاہے ۔ڈاکٹرنثارالحسن کے مطابق پرنسپل جی ایم سی نے بتایاکہ21جونیئرڈاکٹروں کواپنے اصل محکمہ یعنی Parent Departmentبھیجاگیا۔اُدھرڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے ایک اوردھڑے کے صدرڈاکٹرسہیل نائیک کاکہناتھاکہ اصل میں یہ میڈیکل کالج سے منسلک ڈ اکٹروں اورصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں تعینات ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں پائی جانے والی تفاوت کاہے جسکودورکرکے ہی یہ معاملہ سلجھایاجاسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے ڈاکٹروں نے ہڑتال کی تواُنکی تنخواہوں میں ہزاروں روپے کااضافہ کیاگیا۔ڈاکٹرسہیل نائیک کاکہناتھاکہ کل کوگورنمنٹ میڈیکل کالج سے منسلک ڈاکٹروں کی مانگوں کوپوراکیاجائیگاتوصورہ انسٹی چیوٹ کے ڈاکٹرپھرہڑتال کریں گے اوریوں یہ سلسلہ چلتاجائیگا۔دریں اثناء گورنرانتظامیہ نے ایک ہزارسے زیادہ جونیئرڈاکٹروں کی ہڑتال کے نتیجے میں سری نگرمیں قائم پانچ بڑے سرکاری اسپتالوں میں صحت خدمات کے بری طرح سے متاثرہونے کاسخت نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹروں کی ہڑتال کاتوڑکرنے کیلئے ضروری خدمات کی بحالی سے متعلق قانون’اسماESMAلاگوکردیا۔محکمہ صحت وطبی تعلیم کے ایک ذمہ دار نے بتایاکہ ریاستی انتظامیہ اسپتال آنے والے مریضوں کودرپیش مشکلات پرخاموش نہیں بیٹھ سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے نتیجے میں صحت خدمات پراثرپڑرہاہے،اوراس صورتحال کے پیش نظرسرکارنے ضروری خدمات کی بحالی کیلئے مخصوص ایکٹESMAکولاگوکرنے کافیصلہ لیا۔محکمہ صحت وطبی تعلیم کے ایک ذمہ دارنے بتایاکہ ریاست میں جاری نامساعدموسمی اورسیلاب جیسی صورتحال کے پیش نظرطبی وصحت خدمات کوبحال رکھناانتہائی ضروری ہے ،اوراس ضمن میں تمام لازمی اقدامات روبہ عمل لائے جائیں گے۔

Share This Article