معاملے کی تحقیقات کرکے ملوثین کو عبرتناک سزا دی جائے
سری نگر:۶،جون:/ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر (ڈی اے کے ) نے بدھ کے روز صدر اسپتال سرینگر میں زائد المعیاد ادویات کی فروخت کے نئے اسکینڈل پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر وں کی مذکور ہ تنظیم کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ مریضوں کو زائد المعیاد اداویات دینا حیران کن ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک (کے این این ) کے مطابق ڈاکٹر س ایسوسی کشمیر (ڈاک) نے صدر اسپتال میں قائم ادویات کاؤنٹر سے زائد المعیاد اداویات کی فروخت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔کشمیری معالجین کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا’ یہ جان کر حیرانگی ہورہی ہے کہ صدر اسپتال میں مریضوں کو زائد المعیاد اداویات دی جاتی ہیں ‘۔یاد رہے کہ پولیس نے منگل کے روز ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران صدر اسپتال میں زائد المعیاد ادویات کی فروخت کے سلسلے میں 2ڈاکٹروں سمیت4افراد کو حراست میں لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ادویات سے متعلق تاریخ لیبل پر زائد المعیاد کی تاریخ چھپانے کیلئے نئی تاریخ کی لیبل چسپاں کی گئیں ۔انہوں نے ادویات کے استعمال سے متعلق قانون وضوابط کے تحت زائد المعیادادو یات کا ہر گز استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ زائد المعیاد اودیات مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی ہے اور یہ استعمال کیلئے بھی غیر محفوظ ہے ۔ ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ کتنے مریضوں کو زائد المعیاد ادویات دی گئی ہیں ،ہمیں نہیں معلوم اِن میں سے کتنے مریضوں کی موت ہوگئی اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مریضوں کی اموات کی وجہ بیماری بتائی جاتی ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ زائد المعیاد ادویات کی فراہمی پہلے ہوا کرتی تھی ،لیکن اب یہ وباء سرکاری اسپتال تک پہنچ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صدر اسپتال انتظامیہ کے کچھ افسران اور اداویات کمپنیوں میں گڑھ جوڑ ہے ۔انہوں نے معاملے کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئے اور جو بھی اس میں ملوث ہیں ،اُنہیں عبرتناک سزا دی جانی چاہئے ،تاکہ مستقبل میں کوئی بھی انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا مرتکب نہ ہو ۔

