جموں وکشمیر کو اب مخلوط طرز کی حکومت کی ضرورت نہیں
سرینگر/15جنوری: جموںوکشمیر کو اب مخلوط طرز کی حکومت کی ضرورت نہیں،مخلوط حکومت میں ہاتھ بندھے رہتے ہیں، متواتر مخلوط حکومتوں کی وجہ سے ریاست اور ریاستی عوام کو کافی نقصان جھیلنا پڑا، اب کی بار یہاں ایک ہی جماعت کی حکومت قائم ہونی چاہئے تاکہ تعمیر و ترقی اور عوامی خدمت و راحت کاری صحیح ڈھنگ سے ہو۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر کے کولگام میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈر سکینہ ایتو اور جنوبی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری کے علاوہ کئی لیڈران بھی موجود تھے۔ عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ محبوبہ مفتی کو کس زاوئے سے مخلوط طرز حکومت صحیح لگتی ہے، اگر پی ڈی پی بھاجپا کیساتھ مخلوط حکومت میں نہ ہوتی تو شائد وزیر اعظم نریندر مودی سرینگر میں مرحوم مفتی محمد سعید کو عوامی جلسے کے دوران اپنے مشورے اپنے پاس رکھنے کی بات کہہ کر بے عزتی نہیں کرتے۔ اُس وقت نہ تو پی ڈی پی اور نہ ہی محبوبہ مفتی نے نریندر مودی کے ریمارکس پر کوئی ردعمل ظاہر کیا کیونکہ اُس وقت قلم دوات جماعت والوں کو کرسی کی فکر تھی، اگر یہ لوگ اُس وقت مخلوط حکومت میں نہ ہوتے تو شائد وہ نریندر مودی کی طرف سے مرحوم مفتی محمد سعید کی بے عزتی برداشت نہیں کرتے۔ ریاستی گورنر شری ستیہ پال ملک کے اُس بیان جس میں موصوف نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میںکوئی آپریشن آل آئوٹ نہیں، پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ گورنر انتظامیہ اور فوجی کو پہلے آپس میں بیٹھ کر یہ طے کرنا چاہئے کہ یہاں چل کیا رہا ہے؟ حکومت ایک بات کہتی اور فوجی دوسری بات کرتی ہے۔ فوج نے یہاں اعلاناً آپریشن آل آئوٹ جاری رکھا ہے اور حکومتی سطح پر اس کی تردید ہورہی ہے۔ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو ریاست میں نیشنل کانفرنس کی لہر پر توجہ نہ دیتے ہوئے زمینی سطح پر محنت کرنے کی تاکید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ 2014میں جسے بی جے پی اور پی ڈی پی کی لہرکہا گیا وہ پھر یہاں کے عوام پر ایک سونامی بن کر ٹوٹ پڑی، ہمیں ایسی لہر نہیں چاہئے، ہم عوام سے ہیں اور ہمیں ہر حال میں عوام کی اُمنگوں ، جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا ہے۔ پی ڈی پی نے 2015میں عوامی منڈیٹ کے برعکس جھوٹ کی بنیاد پر بھاجپا کیساتھ حکومت بنائی ، جو تباہی اور بربادی کی بنیادی وجہ بن گئی۔ پی ڈی پی والوں نے الیکشن کے دوران بھاجپا کیخلاف بیان بازی کی اور انہیں کشمیر سے باہر رکھنے کیلئے عوام سے ووٹ طلب کئے اور بعد میں لوگوں کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچائی۔ ایسے ہی بھاجپا والوں میں جموں کے عوام سے کئے گئے وعدوں سے انحراف کیا اور لوگوں کے منڈیٹ کو ٹھیس پہنچائی۔پارٹی سے وابستہ ہر ایک فرد کو زمینی سطح پر کام کرنے کی تاکید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جلدہی اپنا منشور منظر عام پر لائے گی اور مجھے اُمید ہے کہ پارٹی کارکنوں پارٹی کا منشور گھر گھر تک پہنچائیں گے۔ کنونشن میں عمر عبداللہ کے سیاسی صلح کار تنویر صادق، ضلع صدر کولگام ایڈوکیٹ عبدالمجید لارم، صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار، سینئر لیڈران ڈاکٹر محمد شفیع، پیر محمد حسین، صفدر علی خان، ایڈوکیٹ عبدالاحد تانترے کے علاوہ بلاک صدور صاحبان بھی موجو دتھے۔

