کولگام میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے نوجوان ہلاک ،متعدد زخمی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File photo

سری نگر:جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں منگل کو احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں ایک احتجاجی ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے ۔ادھروسطی کشمیر کے بعد جنوبی کشمیر کے لارنو کوکرناگ میں جنگجوﺅں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مسلح تصادم آرائی میں ایک جنگجو کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے جبکہ جھڑپ کے دوران ہی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید پتھراﺅ اور زوردار ٹیر گیس شیلنگ شروع ہوئی ۔

فورسز نے علاقے کے وسیع اور گھنے جنگلات کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور تلاشی کارروائی جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق کھڈونی کولگام میں ہونے والے ان پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والے نوجوان کی شناخت خالد احمد ڈار کی بطور کی گئی ہے۔ اس کی عمر 20 برس بتائی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کھڈونی میں منگل کو احتجاجیوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت سڑکوں پر نکل آئی جب یہ خبر پھیل گئی کہ لارنو ککر ناگ میں مارے گئے جنگجوو¿ں میں سے ایک کا تعلق کھڈونی سے ہے۔

انہوں نے بتایا ’احتجاجی نوجوان سیکورٹی فورسز پر پتھراو¿ کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے ردعمل میں آنسو گیس کی شیلنگ اور مبینہ طور پر براہ راست فائرنگ کی‘۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک گولی خالد کے سینے میں پیوست ہوئی۔ اگرچہ اسے فوری طور پر ضلع اسپتال کولگام لے جایا گیا، لیکن وہ دم توڑ گیا۔ادھروسطی کشمیر کے بعد جنوبی کشمیر کے لارنو کوکرناگ میں جنگجوﺅں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مسلح تصادم آرائی میں ایک جنگجو کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے جبکہ جھڑپ کے دوران ہی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید پتھراﺅ اور زوردار ٹیر گیس شیلنگ شروع ہوئی ۔فورسز نے علاقے کے وسیع اور گھنے جنگلات کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور تلاشی کارروائی جاری ہے۔

اننت ناگ سے کے ا یم این نمائندے نے جو تفصیلات فراہم کی ہیں،ان کے مطابق پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ ،فوج کی19آر آر اور سی آر پی ایف سے وابستہ اہلکاروں نے منگل کی صبح لارنو کوکر ناگ کے پہلی پورہ نامی گاﺅںکو اچانک گھیرے میں لیا اور لوگوں کی نقل و حرکت مسدود کرتے ہوئے گھر گھر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔ سیکورٹی فورسز کو علاقے میں حزب کمانڈر اشرف مولوی سمیت دو سے تین جنگجوﺅں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی۔نمائندے نے بتایا کہ جب فورسز اہلکاروں نے بستی کی طرف پیش قدمی شروع کی تووہاں موجود جنگجوﺅں نے ان پرگولیوں کی بوچھاڑ کردی۔نتیجے کے طور پر پورے علاقے میں خوف و ہراس اور افراتفری پھیل گئی اور فورسز نے محاصرہ مزید سخت کرکے جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنگجوﺅں نے کارروائی کی شروعات میں فائرنگ کرنے کے بعد نزدیکی جنگلات کی طرف راہ فرار اختیار کی اس موقعے پر جنگجوﺅں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش بھی کی گئی لیکن انہوں نے گولی باری کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی اثناءمیںفورسزاہلکاروں پر مشتمل مزید کمک علاقے میں پہنچ گئی اور وسیع جنگلات کا محاصرہ مزید سخت کیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنگجو ﺅںنے محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی میں شدید فائرنگ کی لیکن ان کی کوشش ناکام بنادی گئی ۔

طرفین کے درمیان شدید گولی باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہااورطرفین نے ایک دوسرے کے خلاف جدید خود کار ہتھیاروں کا بھرپور استعمال کیا جس کے نتیجے میں وہاں دھماکوں کی گھن گرج سے آس پاس کے علاقے لرز اٹھے۔کے ایم این نمائندے کے مطابق جھڑپ کے دوران ہی نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نکل آئیں اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے پہلی پورہ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس اور فورسز نے انہیں روکا جس پر طرفین کے درمیان پتھراﺅ اور جوابی پتھراﺅ شروع ہوا۔

جھڑپوں نے بعد میں شدت اختیار کی اور فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے پہلے لاٹھی چارج کیا اور بعد میں ٹیر گیس کے گولے داغے ۔ایک طرفین مظاہرین کے ساتھ پولیس کی جھڑپیں جاری تھیں جبکہ دوسری جانب پولیس اور فوج کے سینکڑوں اہلکار جنگجوﺅں کے خلاف کارروائی میں مصروف تھے۔ڈی جی پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے منگل کی دوپہرسماجی نیٹ ورک ٹویٹر کے ذریعے جھڑپ میں دو جنگجوﺅں کے مارے جانے کی اطلاع دی۔تاہم جاں بحق ہوئے جنگجوﺅں کی فوری طور شناخت نہیں کی گئی۔پولیس اور فورسز نے گھنے جنگلات پر مشتمل ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لیا ہے اور وہاں موجود مزید جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کی کارروائی آخری اطلاع ملنے تک جاری تھی۔تاہم شام دیر گئے ریاستی پولیس کے سربراہ ایس پی وید نے بتایا کہ حزب کمانڈر اشرف مولوی زخمی حالت میں فورسز کو چکمہ دیکر فرار ہوا اور اُسکی تلاش جاری ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وسطی کشمیر کے چاڈورہ علاقے میں فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک جنگجو جاں بحق ہوا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے