’کورپشن ثابت ہوئی تو مستعفی ہوجاﺅں گا‘:عبدالحق خان

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں:دیہی ترقی کے ریاستی وزیر عبدالحق خان نے کہا ہے کہ اگر اُن پر بد عنوانیوں کے لگائے گئے الزامات ثابت ہوتے ہیں ،تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے ۔کانگریس کے ممبر اسمبلی نے وزیر موصوف پر مرکزی اسکیموں کی عمل آوری میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ۔

قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز اُس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب کانگریس کے ممبر اسمبلی بانہال وقار رسول نے الزام عائد کیا کہ مرکزی اسکیموں کی عمل آوری میں دیہی ترقی کے ریاستی وزیر عبدالحق خان نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ۔

اِس الزام کے فوراً بعد دیہی ترقی کے ریاستی وزیر عبدالحق خان نے کہا ’اگر مجھ پر بے ضابطگیوں کے الزامات ثابت ہوتے ہیں ،تو میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاﺅں گا‘۔کانگریس کے ممبر اسمبلی وقار رسول نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر موصوف نے ایم جی ۔نریگاکی اسکیم میں بے ضابطگیا ں عمل میں لائی گی ہے۔

وزیر موصوف کی جانب سے دئے گئے جواب سے کانگریس کے ممبر اسمبلی وقار رسول مطمئن نہیں ہوئے اور ایوان سے واک آﺅٹ کیا ۔انہوں نے کہا ’میں اپنی بات سے سنجیدہ ہوں ‘۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وقار رسول نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے ایم جی ۔نریگا کے تحت میرے ضلعے میں 9کروڑ روپے واجب الادا ہے ،جبکہ اس مرکزی اسکیم کے تحت محض 15روز میں مزدوروں کو ادائیگی کی جاتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایوان ِ اسمبلی میں انہوں نے یہ معاملہ اٹھایا اور معاملے کی نسبت آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ،کیونکہ بقول اُنکے رورل ڈیولپمنٹ اسکیم کی عمل آوری میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں ۔تاہم حکومت اِس معاملے کو سنجیدہ لینے کے بجائے ،اس پر دہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ریاستی سرکار نے مذکورہ اسکیم کو تباہ کردیا ہے اور جب تک احتساب نہیں ہوگا بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ہے ۔وقار رسول نے کہا ’اشتہاری اسکنڈل کی تحقیقات کا حکم دیا جائے ،اگر وزیر موصوف قصور وار نہیں پائے گئے ،تو میں استعفیٰ دوںگا ‘۔

وقار رسول نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں ایم جی ۔نریگا اسکیم کے تحت رقومات کی واگزاری کی گئی ،لیکن اُنکے ضلعے میں صرف لاکھوں میں روپے واگزار کئے گئے ،میرے ضلعے میں لوگ رقومات کی ادائیگی کی عدم دستیابی کے سبب مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔

یاد رہے کہ پیر کو ایوان اسمبلی میں نیشنل کانفرنس لیڈر اور ممبر اسمبلی پہلگام الطاف احمد وانی عرف کلو نے سرکار پر جموں کشمیر بنک میں نوکریوں کو سیل پر رکھنے کا الزام لگایاتھا جس پر اسمبلی میں زبردست گرم گفتاری ہوئی تھی۔

الطاف کلو نے الزام لگایاتھا کہ سرکار نے جموں کشمیر بنک میں ملازمتوں کیلئے پیسے لئے ہیں اور یہ کہ حال ہی ہوچکی1700امیدواروں کی بھرتی ایک بہت بڑا اسکینڈل ہے۔انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا تھاکہ سرکار نے فی امیدوار چار سے پانچ لاکھ روپے لئے ہیں جبکہ اسی ”ریٹ پر“مزید1500امیدواروں کی بھرتی کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر بنک نے حال ہی1700ایکزیکٹیو اور نچلی سطح پر سینکڑوں افراد بھرتی کئے ہیں۔اس بھرتی عمل میں پیسے کے لین دین اور چوردروازے کے استعمال کے الزامات پہلے بھی لگے ہیں۔ کئی امیدواروں نے امتحان میں بہتر کارکردگی کے اظہار کے باوجود بھی انہیں نظرانداز کرکے نوکریوں کو ”فروخت“کرنے کے الزامات کے ساتھ احتجاجی مظاہرے بھی کئے ہیں۔

وزیرِ خزانہ حسیب درابو نے کلو کے الزامات پر ردعمل دکھاتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد گریزی سے،جو اسپیکر کویندر گپتا کی غیر حاضری میں ایوان کی کارروائی چلارہے تھے،کہا تھاکہ الطاف کلو کو اپنے الزام کا ایوان میں ثبوت پیش کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا تھاکہ جھوٹے الزامات نہیں لگائے جانے چاہئے اور اگر ممبر اسمبلی کے پاس انکے الزامات کا کوئی ثبوت ہے تو انہیں ایوان میں پیش کرنا چاہئے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے