جموں : جموں میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران منگل کو کانگریس کے ممبرانِ اسمبلی نے کئی معاملات پر سرکار کو گھیرتے ہوئے ایوان سے احتجاجاً ’واک آﺅٹ ‘کیا ۔کانگریس کے ممبر اسمبلی کرگل اصغر کربلائی نے الزام عائد کیا کہ کرگل میں شعبہ سیاحت کو فروغ دےنے کے حوالے سے ریاستی سرکارغیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔اس دوران کانگریس کے ہی ممبر اسمبلی بانڈی پورہ عثمان مجید نے الزام عائد کیا کہ سیاسی بنیادوں پر سرکاری محکموں میں تقرریاں عمل میں لائی جارہی ہے ۔ ادھر اپوزیشن ممبران نے منگل کو ایوان بالا کی کارروائی کا احتجا جاً بائیکاٹ کیا ۔
تعمیل ارشاد کے نامہ نگار نے جموں سے اطلاع دی ہے کہ جموں میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران قانون ساز اسمبلی میں کانگریس کے ممبران نے منگل کے روز کئی معاملات پر سرکار گھیرنے کی کوشش کی اور ایوان سے احتجا جاً واک آﺅٹ بھی کیا ۔
نمائندے کے مطابق کانگریس کے ممبر اسمبلی کرگل اصغر کر بلائی نے الزام عائد کیا کہ حکومت کرگل میں شعبہ سیاحت کی ترقی کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کے پاس کرگل میں شعبہ سیاحت کے فروغ کےلئے کوئی پیکیج نہیں ہے ۔
اس پر حا ل ہی میں وزیر سیاحت کے عہدے پر فائز ہوئے تصدق حسین مفتی نے بتایا کہ وہ رات ورات اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیں گے ۔ممبر اسمبلی کرگل نے کہا کہ وہ سرکار سے بنگلور اور حیدر آباد میں محکمہ سیاحت کی جانب سے فروغی مہم کے حوالے سے وضاحت طلب نہیں کرتے ۔
اس موقع پر تصدق مفتی نے ممبر اسمبلی سے کہا وہ اپنی نشست میں بیٹھے ،مجھے کچھ وقت دیں ،میں محکمہ سے اس حوالے سے تفصیلات حاصل کرنے کت بعد آپ کے تمام سوالات کے جوابات دوں گا ۔اس دوران وزیر مملکت برائے سیاحت پریا سیٹھی نے اپنا رد ِ عمل ظاہر کیا ۔انہوں نے کہا کہ کرگل کو پہلے ہی علیحدہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی ۔تاہم کانگریس کے تمام ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور جواب سے نامطمئن ہو کر ایوان سے واک آﺅٹ کیا ۔
ممبر اسمبلی لہیہ دلدن نامگیال نے اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا ’مجھے ایک دن کےلئے سیاحت کا وزیر بنایا جائے اور تبدیلی دیکھیں ‘۔ممبر اسمبلی نے کہا کہ کرگل میں فروغ ِسیاحت کے سلسلے میں سرکارنے کچھ نہ کیا ۔
اس دوران کانگریس کے ہی ممبر اسمبلی بانڈی پورہ نے الزام عائد کیا کہ سیاسی بنیادوں پر سرکاری محکموں میں بھرتیاں عمل میں لائی جارہی ہے ۔جموں میں جاری بجٹ اجلاس کی بحث میںحصہ لےتے ہوئے ممبر اسمبلی بانڈی پورہ عثمان مجید نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت غیر ضروری طور پر سرکاری محکموں میں بھرتیاں کررہی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ غیر ضروری تقرریوں سے کارپوریشن کے محکمہ جات مفلوج ہو رہے ہیں۔
عثمان مجید نے کہا ’آپ نے کمشنروں ،وائس چیئرمنوں اورتجزیہ کار وں کی ایک فوج تیار کی ہے ۔‘انہوں نے ریاستی حکومت کارپوریشن کے اداروں پر غیر ضروری تقرریاں کرکے اِن پر اضافی بوجھ ڈالا ہے۔
ادھر اپوزیشن نے منگل کے روز قانون ساز کونسل کی کارروائی کا بطور احتجاج بائیکاٹ کیا ۔نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اراکین کونسل نے این سی لیڈر سجاد احمد کچلو کو ایوان بدر کرنے پر ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ۔
این سی اور کانگریس اراکین کونسل نے سجاد احمد کچلو اور ایم ایل سی کانگریس غلام نبی مونگا کی قیادت میں قانون سازیہ کے کمپلیکس کے باہر احتجاجی دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف معرہ بازی بھی کی ۔
انہوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مانگ کی قانون ساز کونسل کے چیئرمین اپنے رویہ پر معافی مانگیں ۔ان کا کہناتھا کہ انہوں نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور دھرنے پر بیٹھے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اگر سرکار چاہتی ہے کہ قانون ساز کونسل کے اپوزیشن اراکین واپس ایوان میں داخل ہو ،تو سجاد احمد کچلو کو ایوان بدر کرنے پر کونسل کے چیئرمین کو معذرت کرنی ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ سجاد احمد کچلو سرکار سے وضاحت چاہتے تھے ،اس پر اُنہیں مارشل آﺅٹ یا ایوان بدر نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ یہ پارلیمانی اداب کے منافی ہے ۔
نمائندے کے مطابق وقفہ سوالات کے دوران ایوان بالا یعنی قانون ساز کونسل میں جب وزیر مملکت آسیہ نقاش سوال کا جواب دے رہی تھی ،تو سجاد احمد کچلو نے کشتواڑ پاﺅر پروجیکٹوں کے معاملے پر ضمنی سوال پوچھا ۔
وزیر موصوفہ کے جواب سے مطمئن نہ ہو کر سجاد احمد کچلو نے ایوان چاہ میں احتجاج کیا ،اس موقع پر چیئرمین کونسل حاجی عنایت علی کی ہدایت پر اُنہیں مارشل آﺅٹ کیا گیا ۔
