کشیدہ صورتحال ، حکمران اتحاد کی پالیسیوں کا نتیجہ:تاریگامی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں//سی پی آئی کے سینئر رہنما و ممبر اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہاہے کہ غیر مسلح عام شہریوں کی ہلاکت اور نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین پر گزشتہ روز لاٹھی چارج موجودہ حالات کی عکاسی ہے ۔

انہوںنے گورنر کے خطبے پر پیش کی گئی تحریک پر بولتے ہوئے کہاکہ کئی مرتبہ یہ مانگ کی گئی ہے کہ ایوان میں ان مسائل پر بحث کی جائے لیکن یہاں اس کی اجازت ہی نہیں جاتی ۔ان کاکہناتھاکہ موجودہ حالات مرکز میں بھاجپا اور ریاست میں اس حکمران اتحاد کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور اس کی کشمیر پالیسی میں انگریزی لفظ ‘Tough’سب سے اہم ہے ۔

تاریگامی کاکہناتھاکہ حکومتیں خاص کر مرکزی سرکار سیاسی نوعیت کے اس معاملے کا جان بوجھ کر فوجی حل چاہتی ہے جس میں کامیابی نہیں ملے گی ۔ انہوںنے کہاکہ مودی حکومت نے مذاکرات کے حوالے سے بھی کوئی اقدام نہیں کیا ۔تاریگامی نے کہاکہ وزیر اعلیٰ بہت سی باتیں کہتی ہیں مگر پیلٹ کے استعمال پر پابندی پر کچھ نہیں کہہ رہیں جس نے ریاست میں بہتوں کو نابینا بنادیاہے ۔

انہوںنے واضح کیاکہ حریت لیڈران کی نظربندی اوران کی نقل و حرکت پر پابندی سے حالات میں بہتری نہیں آئے گی ۔ان کاکہناتھاکہ یہ حکومت افسپا اور پی ایس اے کو ہٹانے کے بجائے مزید جارحانہ قوانین نافذ کرتی جارہی ہے جن میں سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا بندشیں اور جموں کشمیر پبلک پراپرٹی آرڈی نینس 2017قابل ذکر ہیں ۔

تاریگامی نے کہاکہ ہماری ریاست میں گورننس سب سے نچلے درجہ پر پہنچ گئی ہے اورقانون سازیہ ، ضلع ڈیولپمنٹ بورڈ اور دیگر ادارے بے معنی بنادیئے گئے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ کشمیر میں منفی درجہ حرارت اور جموں میں شدت کی گرمی میں لوگوں کو مناسب بجلی سپلائی فراہم نہیںہوتی مگر اسی ریاست میں پانچ ہزار کروڑ روپے جو بجلی کے ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے کیلئے تھے ، کا ابھی تک استعمال ہی نہیں کیاگیا ۔

انہوںنے کہاکہ الارمنگ سطح پر پہنچ چکی بے روزگاری اور تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے کوئی بات ہی نہیں کی گئی اوراس طرح کی غیر سنجیدگی ریاست میں پہلے سے ہی پائی جارہی بے چینی کو مزید مشکل بنادے گی ۔انہوںنے کہاکہ ایس آر او 202کے تحت جاب پالیسی بھرتی مواقعوں کیلئے کنٹریکچول تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔انہوںنے حکومت پر زور دیاکہ اس سے پہلے کہ تاخیر ہوجائے اس پالیسی کو واپس لیاجائے ۔

تاریگامی نے کہاکہ کرپشن ہر ایک سطح پر پائی جارہی ہے اور ہر سطح پر اس کے ذریعہ حمایت حاصل کی جاسکتی ہے تاہم اس خطبے میں اس اہم معاملے پر کوئی بھی کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی ۔سی پی آئی ایم رہنما کاکہناتھاکہ گیارہ لاکھ نزول ، سرکاری اور ای پی اراضی ناجائز تجاوزات میں ہے اور عوامی تشویش و ہائی کورٹ کی مداخلت کے باوجود حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں ۔

انہوںنے کہاکہ حکومت خالی بیانات دینے کے بجائے کچھ کردکھائے تاکہ لوگوں کی مشکلات کم ہوسکیں ۔ انہوںنے وزیر اعلیٰ پر زور دیاکہ وہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ایک پہل کے طور پر قانون سازیہ میں ان کی ریزرویشن پر ایک بل پیش کریں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے