مطابق ریاست کے ہنگامی دورے کے دوران فوجی سربراہ نے ریاست کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں جموں میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر بھی فوجی کمانڈروں کیساتھ اہم ترین میٹنگ کی جس میں ریاست کی تازہ ترین سیکورٹی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔بعد میں میڈیا کے نمائندوں کیساتھ بات کرتے ہوئے فوجی سربراہ نے کہاکہ جموں وکشمیر میں جنگجووں کیخلاف فوج کی جارحانہ پالیسی جاری رہیگی کیونکہ فوج نے ریاست میں امن وامان کو برقرار رکھنے کیلئے جو آپریشن شروع کر رکھا ہے اس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں اور پچھلے سال کے دوران بھی اس جارحانہ پالیسی نے جنگجوئیت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور نئے سال میں بھی یہ پالیسی جاری رہیگی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالات کو بدلنے کیلئے فوج اپنی طرف سے رول ادا کررہی ہے جس کو دیکھتے ہوئے حالات کو بدلنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کے اندر فوجی کاروائیوں سے کافی حد تک بدلاو دیکھنے کو مل رہا ہے اور ایسے میں امن وقانون کو یقینی بنانے کیلئے بھی کوششیں تیز کی گئی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کے اندر اطمینان پیدا ہوگیا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح سے کنٹرول لائن پر فوج پاکستانی گولہ باری کا جوا ب دے رہی ہے اس سے یہ صاف ہورہا ہے کہ کنٹرول لائن پر فوج کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے لہذا ہمیں اندرونی اور بیرونی سطح پر خطرات سے نمٹنا ہوگا ۔
انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے جوطریقہ کار اختیا رکر رکھا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ لگتا ہے کہ وہ اپنی حرکات سے باز نہیں آرہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ رہتے ہیں حالانکہ بھارت کنٹرول لائن پر اشتعال انگیز ی کا صرف جواب دے رہا ہے ۔فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ فوج کا اپنا ایک رول ہے اور وہ کسی بھی اعتبار سے نظم شکنی کی مرتکب نہیں کر رہی ہے اور ایسا کرنے والے فوجی اہلکاروں کیخلاف ضابطے کے تحت کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کی صورتحال انتہائی حساس ہے اور ایسے میں اس حساسیت کو اختیار کرتے ہوئے فوج کو بھی کافی حد تک منظم اور احتیاط برتنے کی کوشش کرنی ہوگی ۔
جنرل بپن راوت نے کہا کہ فوج کا جو کریکٹر ہے اس کو برقرار کھنے کی کوشش کی جانی چاہئے اور ایسے میں فوج کو مزید تیاری کی حالت میں رہنا ہوگا ۔انہوں نے کاکہا اندرون ریاست جنگجوؤں کیخلاف کاروائی جاری ہے ۔اس دوران کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کی جانب سے گولہ باری کا بھر پور جواب دینے کو بھی انہوں نے فوج کو ہدایت دی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کنٹرول لائن پر بھی خطرات موجود ہیں اور پاکستانی فوج باربار کنٹرول لائن پرسیز فائر کی خلاف ورزی کرتی رہتی ہے جس کا اسے دندان شکن جواب دیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال سرجیکل سٹرائکس کی وجہ سے پاکستان کو سبق سکھایاگیا اور حال ہی میں ایک مرتبہ پھر فوج نے پاکستانی فوج کو سبق سکھایا ہے اور گھر میں گھس کر تین پاکستانی اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا ہے اور اپنا بدلہ چکایا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے ہندپاکستان اور ہند چین سرحدوں پر بھی فوج کی چوکسی بڑٖھا دی گئی ہے ۔ایسے میں ہندوپاک تنازعات کو دیکھتے ہوئے سرحدوں پر چوکسی عملائی جارہی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ڈوکلام میں بھی آپریشن کے دوران چین کی فوج کو یہ بات سمجھا دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی طور پر وہ سرحد پر بھارتی حدود کی خلاف ورزی نہ کرے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں پورے جوش وخروش کیساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور اگلے سال بھی یہ سلسلہ جاری رہیگا ،۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اندرونی اور باہری چلینجوں کا بھر پور مقابلہ کیا ہے اور رواں سال بھی ایسا ہی کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی فوج اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ان کی قربانیاں کسی بھی اعتبار سے ضائع نہیں ہونے دی جائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے ۔انہوں نے فوجی افسران پر بھی زور دیا کہ وہ کسی ایسی حرکات کے مرتکب نہ ہوں جس سے فوج کی اہمیت پر آنچ آئے اور کردار داغ دار ہو ۔انہوں نے مزید کہاکہ دہشت گردی کیخلاف بھی فوج اپنا کردار اد کررہی ہے اور آگے بھی جاری رکھے گی ۔
فوجی سربراہ نے سرحد پر تعینات فوجیوں کو ہر دم چوکس رہنے کی صلاح دیتے ہوئے کہاکہ دراندازی کوکسی بھی صورتحال میں ناکام بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے اوردراندازی کرنے والے جنگجووں کو کسی بھی قیمت پر وادی کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جانا چاہئے ۔تاکہ امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنایا جاسکے ۔فوجی سربراہ نے کشمیر کے اندر مختلف یونٹوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور جنگجووں کیخلاف اپنی کاروائیوں میں جارحانہ طرز عمل اختیار کریں ۔

