سری نگر؍یکم جنوری ؍سالِ رفتہ کے365دنوں میں 457انسانی جانوں کازیاں ہوا،جن میں129سیکورٹی اہلکار،219جنگجو،20خواتین سمیت108شہری بھی شامل ہیں جبکہ2017کے دوران پیلٹ بندوق نے4نوعمرنوجوانوں کوبینائی سے محروم کردیا جبکہ سال رفتہ کے دوران خواتین کی گیسو تراشی150واقعات رونما ہوئے۔
حقوق انسانی گروپوں اورسرگرم کارکنوں کے مشترکہ پلیٹ فارم جموں وکشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی نے اتوار کے روز سال 2017کے دوران پیش آئے ہلاکت خیز واقعات، مختلف نوعیت کی زیادتیوں وحقوق انسانی پامالیوں اور ریاستی سرکار کی جانب سے ایسے کئی واقعات کے حوالے سے جاری کردہ تحقیقاتی احکامات پر مبنی ایک مفصل رپورٹ جاری کی۔
مذکورہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیاگیا کہ سال2017کے دوران جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہوئی جھڑپوں ،پرتشدد مظاہروں اور دیگر تشدد آمیز واقعات کے دوران 450افراد مارے گئے ، جن میں124سیکورٹی افسرو اہلکار،217جنگجو ، 108عام شہری اورایک اخوانی بندوق بردارشامل ہے۔تاہم سال رفتہ کے آخری روز جنوبی ضلع پلوامہ کے لیتہ پورہ علاقہ میں ہوئے ایک فدائین حملے کے دوران5سیکورٹی اہلکار اور 2جنگجو مارے گئے اوراس طرح سے کل بیتے سال کے دوران 457ہلاکتیں ہوئیں۔سی سی ایس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں مزید بتایاگیاکہ2017ء گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال ثابت ہوا۔ رپورٹ میں بتایاگیاکہ2017ء کے دوران 1059افراد پر پی ایس اے لاگو کیاگیا جبکہ سال رفتہ کے دوران خواتین کی گیسو تراشی150واقعات رونما ہوئے۔
رپورٹ میں مزید برآں یہ بھی انکشاف کیاگیا کہ جنوری سے دسمبر تک شہری ہلاکتوں اور دیگر زیادتیوں کے مختلف واقعات پیش آئے اوران واقعات کے حوالے سے ریاستی سرکار نے حسب سابقہ رسم خانہ پوری کے بطوری جوڈیشل اور مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادر کئے لیکن کسی بھی ایک واقعہ سے متعلق رپورٹ نہ تو مکمل کی گئی اور نہ اس حوالے سے ملوث اہلکاروں کیخلاف کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق2017ء کے دوران 8امرناتھ یاتری خواتین سمیت کل20خواتین تشددکی بھینٹ چڑھ گئیں۔ سی سی ایس نے اپنی مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا کہ سال گزشتہ کے دوران ریاستی حقوق انسانی کمیشن کی جانب سے بے نام قبروں کی تحقیقات کے حوالے سے کوشش کی گئی لیکن موجودہ سرکار نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔
کولیشن آف سیول سوسائٹی کی رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاکہ ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اور دیگر ارباب حل وعقد نے سال 2016ء کی شہری ہلاکتوں، عادل فاروق نامی طالبعلم کی ہلاکت اور دیگر ایسے واقعات کے حوالے سے تحقیقاتی احکامات صادر کئے لیکن کوئی تحقیقات نہ تو مکمل کی گئی اور نہ ہی عملائی گئی۔رپورٹ کے مطابق سال2017ء کے دوران بھی پیلٹ قہر جاری رہا اور4نوجوانوں بشمول وسیم احمد ٹھاکر ساکن کولگام ، عادل فاروق شیخ ساکن یاری گنڈ کاؤسہ بڈگام ، محمد یونسف شیخ ساکن سیموہ ترال پلوامہ اوراویس احمد ڈار ساکن کاکہ پورہ پلوامہ پیلٹ لگنے سے بینائی کھوگئے۔ سی سی ایس کی رپورٹ میں گرفتاریوں اورنظربندوں پر باربار پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کئے جانے کے حوالے سے بھی تفاصیل دی گئی ہیں
