مسئلہ کشمیرکاحل طلب رہناہندوپاک کیلئے بڑاخطرہ
سوپور:یکم جون: شمالی قصبہ سوپورکی تاریخی جامع مسجدخانقاہ میں نمازجمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے سربراہ پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ ماہ مبارک میں تمام بالغ مسلمان مردوزن پرروزہ رکھنافرض ہے تاکہ وہ اپنے اندرون کوسدھارنے کیساتھ ساتھ اپنی نفسیاتی خواہشات پرقابوپاسکیں ۔انہوں نے کہاکہ ماہ مبارک ہمیں صبروثبات اورراہ حق کادرس دیتاہے اسلئے ہم سب پرلازم ہے کہ ماہ مبارک کے اصل فلسفے کوسمجھتے ہوئے اس مقدس مہینے کااحترام یقینی بنائیں ۔کے این این کے مطابقپروفیسرغنی نے کہاکہ ماہ رمضان اُمت مسلمہ کوحق پرستی ،عزت نفس ،اللہ کی بندگی ،یکجہتی واتفاق ،نظم وضبط اورانسان ہمدردی کادرس بھی دیتاہے ،اورہم یہ درس اس مہینے میں حاصل کرکے اپنی زندگیوں کوصحیح سمت دے سکتے ہیں ۔انہوں نے اپنی تقریرکے دوران ایک فقرے کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں اللہ کوجاننے سے پہلے خودکوسمجھناہوگا،اوریہ تب ہی ممکن ہے جب ہم قرآن واحادیث کی روشنی میں اپنی زندگیاں گزاریں گے ۔پروفیسرعبدالغنی بٹ کاکہناتھاکہ انسان کااحترام ہی سماج میں امن وامان کوپروان چڑھاتاہے ،اورسماج کوسنگین جرائم اوررُجحانات سے بچاتاہے۔انہوں نے کہاکہ جب ہمیں دلی سکون نصیب ہوگاتوہمارے گھروں اورگردونواح میں خودبخودامن قائم ہوگا۔ پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ بحیثیت مسلمان ہمیں اسبات پرفخرہوناچاہئے کہ ہم رسول رحمت ﷺ کے اُمتی ہیں لیکن ہمیں اسبات کااحساس ہوناچاہئے کہ ہم بندگی اوراُمتی ہونے کافرض بھی اداکریں ،اوریہ تب ہی ممکن ہوپائے گاجب ہم اپنی زندگیوں اورروزمرہ کی سرگرمیوں کوقرآن واحادیث کے طابع رکھ پائیں گے ۔مسلم کانفرنس کے چیئرمین کاکہناتھاکہ دھوکہ دہی ،وعدہ خلافیوں ،مفادپرستی ،لالچ وحرص،ظلم وزیادتیوں اورناانصافیوں نے کشمیرکواپنی چنگل میں لے رکھاہے ،جسکے باعث یہاں اب حق گوئی بھی ایک سنگین جرم قرارپائی ہے ،اورچاپلوسی ومادپرستی کوایک فن ماناجاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ہماری ستم ظریفی ہے کہ طویل غلامانہ زندگی نے ہماری سوچ میں بھی غلامانہ طرزفکرکوپروان چڑھایاہے ،اورہم سچ اورحق کوسمجھنے یاجاننے سے بھی منہ موڑچکے ہیں ۔پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ باربارکی غلطیوں اورباربارکے غلط فیصلوں نے کشمیری قوم کوایک ایسے تاریک گڈھے کی نذرکردیاے کہ اسے باہر نکلنااب مشکل بن چکاہے ۔تاہم انہوں نے کہاکہ کشمیری قوم نے اپنے جائزومسلم حق کے حصول کی خاطرجوقربانیاں دی ہیں ،اورجن مصائب ومظالم کااب بھی یہاں سامناکیاجاتاہے ،وہ ایک باہمت ،غیور،زندہ قوم کی علامت ہے ۔پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ بحیثیت ایک غیورقوم کے ہمیں کبھی نااُمیدنہیں ہوناچاہئے لیکن یہ بات لازم ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے حوالے سے ایک متفقہ اورجامع لائحہ عمل مرتب کریں ۔انہوں نے اسبات پرزوردیاکہ رواں جدوجہدکوکامیابی کیساتھ آگے بڑھانے کیلئے ہمیں غوروفکراورمشاورت کادائرہ وسیع کرناچاہئے تاکہ ہم ظلم وجبرسے نجات پانے کیلئے صحیح راہ اورسبیل کاتعین کرسکیں۔پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ کشمیری قوم نے کبھی غلامی قبول نہیں کی ہے ،اورجب جب اس قوم کومغلوب بنانے کی کوشش کی گئی تب تب یہ قوم اُٹھ کھڑی ہوئی اورقابضوں کونکال باہرکیاگیا۔انہوں نے کہاکہ کشمیرکاتنازعہ اب علاقائی حدبندیوں سے نکل کرایک عالمی مسئلہ بن چکاہے کیونکہ اس مسئلے کیساتھ کئی ممالک کے مفادات جڑے ہوئے ہیں ۔مسلم کانفرنس کے سربراہ کاکہناتھاکہ آج کشمیری حریت پسندقیادت مذاکرات کے ذریعے کشمیرمسئلے کاحل نکالنے پرزوردے رہی ہے لیکن بھارت یاپاکستان اس ضرورت کوسمجھ کرکوئی اقدام روبہ عمل لانے میں ناکام رہے ۔پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ وہ دن دورنہیں جب یہ دونوں ممالک کشمیری قوم اوریہاں کی قیادت سے کہیں گے کہ آئیے مذاکرات کی میزپرمل بیٹھ کرستردہائی اس پرانے مسئلے کاکوئی قابل قبول حل تلاش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کشمیری بحیثیت ایک قوم کبھی جھگڑالونہیں رہی ہے کیونکہ یہ قوم فتنہ پرورنہیں بلکہ انسانیت اورامن پسندہے لیکن اس قوم کی نوجوان نسل کوخطرناک راستہ اپنانے کیلئے مجبورکیاجارہاہے ۔پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ بھارت اورپاکستان کی سیاسی وملٹری لیڈرشپ اورپالیسی سازجسقدرجلد ی مسئلہ کشمیرکی حساسیت اورنزاکت کاادراک کرکے اس مسئلے کاحل نکالنے کیلئے نتیجہ خیز مذاکرات کی راہ اختیارکریں گے ،اُسی قدرامریکہ جیسی عالمی طاقتوں کی دخل اندازی اورمفادپرستانہ ساز ش کوناکام بنایاجاسکے گا۔

