کشمیریوں کی مطلوبہ خواہش کی تکمیل ناممکن:جنرل راوت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

نئی دہلی:آرمی چیف جنرل بپن راﺅت نے”کشمیریوں کی مطلوبہ خواہش کی تکمیل کوناممکن“قراردیتے ہوئے سیاسی اورعسکری علیحدگی پسندی کیخلاف ایک جیسی پالیسی اپنانے کی وکالت کی ہے۔آرمی چیف کااسبات پرزورتھاکہ ہمیں ملی ٹنسی اورسیاسی نوعیت کی علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کوایک ہی زاوےے سے دیکھناچاہئے کیونکہ دونوں طرزکی سرگرمیوں کے مابین چولی دامن کاساتھ رہاہے ۔جنرل راوت نے کہاکہ کشمیریوں کواسبات کااحساس ہوچکاہے کہ اُنکی خواہش پوری نہیں ہوگی ۔انہوں نے مزیدکہاکہ زیادہ تر کشمیری ملی ٹنسی سے اُکتاچکے ہیں ،اوراگریہی صورتحال رہ تووادی میں ملی ٹنسی کابہت جلدخاتمہ ہوجائیگا۔کشمیر نیوزسروس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق نئی دہلی میں منعقدہ ایک مذاکرے کے دوران فوج کے سربراہ جنرل بپن راﺅت نے کہاکہ کشمیریوں کی اکثریت ملی ٹنسی سے اُکتاچکے ہیں ،اوروہ جان چکے ہیں کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے اُنکی کوئی خواہش پوری نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کواسبات کااحساس ہوچکاہے کہ وہ اپنی خواہش کی منزل یامقصدحاصل نہیں کرسکتے ۔آرمی چیف کامزیدکہناتھاکہ کشمیرمیں زیادہ ترلوگ اب ملی ٹنسی کاساتھ نہیں دیتے کیونکہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ اُنھیں اسے کچھ حاصل نہیں ہوا،اوربقول جنرل راﺅت کشمیریوں کواب یہ احساس ہورہاہے کہ وہ بھارت سے الگ یادورنہیں رہ سکتے ۔فوجی سربراہ نے مذاکرے کے دوران بتایاکہ کشمیریوں کواسبات کابھی احساس ہورہاہے کہ وہاں کچھ کچھ لوگبنیادپرستی اپناچکے ہیں ۔آرمی چیف کاکہناتھا’مجھے یہ محسوس ہوتاہے کہ کشمیرمیں زیادہ ترلوگ مین اسٹریم یاقومی دھارے میں شامل ہوناچاہتے ہیں ‘۔انہوں نے کشمیریوں کے سوچ واپروچ میں تبدیلی کاحوصلہ بخش قراردیتے ہوئے کہاکہ ایسالگتاہے کہ کشمیرمیں اب بہت جلدشورش جیسی صورتحال ختم ہوجائیگی۔تاہم جنرل راﺅت کاکہناتھاکہ یہ سوچ پائیدارہونی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اگرمثبت سوچ قائم رہتی ہے توہم یعنی سیکورٹی فورسزکشمیروادی میں جاری جنگجوئیانہ سرگرمیوں کوختم کرنے میں جلدہی کامیاب ہوجائیں گے ۔Raisina-Dialogueکے زیراہتمام مذاکرے میں اظہارخیال کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل بپن راﺅت نے کشمیرمیں سیاسی اورعسکری سطح پرعلیحدگی پسندی کاخاتمہ کرنے کیلئے ایک جیسی پالیسی اپنانے کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ ان دونوں کے درمیان چولی دامن کاساتھ ہے ۔انہوں نے کہاکہ سیاسی ہوں یاکہ ملی ٹنٹ تنظیمیں دونوں اپنے اپنے طورپرکشمیرمیں علیحدگی پسندی ،شدت پسندی اورملی ٹنسی کوتقویت پہناتی رہی ہیں ،اسلئے دونوں سطحوں کی علیحدگی پسندی کوایک ہی زاوےے سے دیکھنے اورنمٹنے کی ضرورت ہے۔آرمی چیف کایہ بھی کہناتھاکہ ہم کشمیرمیں سرگرم ملی ٹنٹ تنظیموں اورملی ٹنٹوں کیخلاف پوری قوت کیساتھ نبردآزماہیں ،اورہمیں بڑی کامیابیاں بھی ملی ہیں لیکن علیحدگی پسندمحاذپرسرگرم سیاسی تنظیمیں بھارت مخالف پروپگنڈہ پھیلانے ،کشمیری نوجوانوں کوعلیحدگی پسندانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کی ترغیب دینے اورایسی سرگرمیوں کیلئے فنڈس جمع کرنے کی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں ۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ کشمیرمیں علیحدگی پسندی کوفروغ دینے کیلئے علیحدپسندسیاسی تنظیمیں اب غیرسرکاری تنظیموں یعنی این جی اوﺅزکے نام پربھی فنڈس جمع کرتی رہتی ہیں ،اورپھران جمر شدہ رقومات کوعلیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کیلئے زیرتصرف لایاجاتاہے ۔آرمی چیف کااسبات پرزورتھاکہ ہمیں ملی ٹنسی اورسیاسی نوعیت کی علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کوایک ہی آنکھ اورایک ہی زاوےے سے دیکھناچاہئے کیونکہ دونوں طرزکی سرگرمیوں کے مابین چولی دامن کاساتھ رہاہے ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے