ڈلیوری کے دوران دو حصوں میں بٹ گیا بچہ، ڈاکٹروں نے جھٹکے سے کھینچا، سر رہ گیا اندردھڑ باہر

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

نیم حکیم خطرہ جان ،غیر طبی عملہ نے درد زہ میں مبتلاء خاتون کی زچگی کرائی

سرینگر/11جنوری/سی این آئی شعبہ صحت میں اپنی نوعیت کے پہلے لاپرواہی کے واقعے میں نیم حکیم خطرہ جان کا محاورہ اُس وقت صحیح ثابت ہوا جب ایک ہیلتھ سنٹر میں درد زہ میں مبتلاء حاملہ خاتون کی زچہ گی کرانے کی کوشش کی جس میں بچہ دو ٹکڑوںمیں بٹ گیا ۔ پولیس نے ملازمین کے خلاف کیس درج کرلیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیاکے مطابق ’’نیم حکیم خطرہ جان‘‘کا محاورہ اُس وقت صحیح ثابت ہوا جب راجستھان میں ایک درز زہ میں مبتلاء ایک حاملہ خاتون نزدیکی ہیلتھ سنٹر پہنچائی گئی جہاں پر کوئی بھی ماہر امراض خواتین’’گینکالوجسٹ‘‘موجود نہیں تھا اور سنٹر کے دو ملازمین نے ڈیلوری کا عمل شروع کیا۔جس دوران ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوا۔راجستھان پولیس نے جیسلمیر ضلع میں ایک خاتون کی ڈلیوری کے دوران مبینہ لاپرواہی کے معاملے میں (سی ایچ سی) ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والے دو لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والے ان دو لوگوں کے خلاف الزام ہے کہ ان کی لاپرواہیوں کی وجہ سیڈلیوری کے دوران بچے کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ انڈین ایکسپریسوے کی خبر کے مطابق بچہ کے والد ترلوک سنگھ نے کہا۔ ‘ میں اپنی اہلیہ کی ڈلیوری کیلئے 6 جنوری کو رام گڑھ کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر موجود نہیں تھے۔ ڈلیوری میں مدد کیلئے کمپاؤنڈر نے دوسرے شخص کو بلایا۔ تھوڑی ہی دیر بعد جب میری اہلیہ سنگین درد میں تھی تو انہوں نے کہا کہ ڈلیوری میں پچیدگیاں ہیں اور بچہ زندہ نہیں بچ سکے گا۔ایسے میں انہوں نے ہمیں جیسلمیر ٹرانسفر کر دیا۔ پھر جیسلمیر سے ہمیں جودھپور بھیجا گیا۔ جودھپور پہنچ کر ہمیں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کا جسم تو دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ ماں کے پیٹ میں صرف بچے کا سر ہے جسم تو پہلے ہی نکال لیا گیا ہے’۔ہمیں یہ بات سن کر بڑا دھکا لگا۔ یہ قتل ہے۔ جب وہ جانتے تھے کہ بچہ ان کی لاپرواہی کے سبب مر گیا ہے تو انہوں نے گمراہ کیوں کیا انہوں نے یہ دعوی کیا کہ یہ سب جانتے ہوئے بھی سی ایچ سی ملازمین نے ان کے اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ یہ غلط سلوک کیا’۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق وہیں ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والے ملازم جوجھار سنگھ اور امرت لال کے خلاف آئی پی سی دفعی 304 اے اور 336 کے تحت معاملہ کر لیا گیا ہے۔ رام گڑھ پولیس اسٹیشن کے ایس یچ او جالم سنگھ نے کہا کہ ہم نے اسپتال سے دیگر آدھے جسم کو برآمدکر لیا ہے اور جسم کا پوسٹ مارٹم بھی کر لیاگیا ہے۔ وہیں ہیلتھ سینٹ کے افسران نے کہا کہ جانچ جاری ہے۔

Share This Article