جنوبی کشمیر کے کئی اضلاع کا کیا دورہ ، جاں بحق افراد کے لواحقین سے ملاقات کی
سری نگر:١٥،جولائی:/ لبریشن فر نٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو جنوبی کشمیر کے دورے کے دوران حراست میں لیکر پولیس اسٹیشن سنگم میں مقید رکھا گیا ۔ترجمان کی جانب سے کے این این کو بھیجے گئے بیان کے مطابق چیئرمین لبریشن فرنٹ محمد یاسین ملک کو ایک بار پھر پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جب وہ جنوبی کشمیر کے کئی مقامات جہاں وہ کچھ غم زدہ اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت پرسی کیلئے گئے تھے‘ کا دورہ کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے، ۔ محمد یاسین ملک کے ساتھ نائب چیئرمین مشتاق اجمل، زونل آرگنائزر بشیر احمد کشمیری ، امتیاز احمد اور ارشاد احمد کو بھی گرفتار کرکے سنگم پولیس تھانے میں مقید کردیا گیا ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جے ایل ایل ایف کے چیئرمین کو 10 دن کے کی اسیری کے بعد ہفتہ کو ہی رہا کردیا گیا تھا جبکہ اتوار کو پولیس نے انہیں دوبارہ گرفتار کیا ہے۔جے ایل ایل ایف ترجمان اس گرفتاری کی سخت الفاظ میں کی مذمت کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ گرفتاری سے قبل ،جے ایل ایل ایف کے چیئرمین نے ایک وفد کے ہمراہ جنوبی کشمیر کے کئی مقامات کا سفر کیا اور حال ہی میں فورسز کی طرف سے جاں بحق کئے جانے والے معصومین نیز دوسرے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔محمد یاسین ملک نے ہاکورہ کھڈونی جاکر وہاں جاں بحق بچی عندلیب جان، شاکر احمد کھانڈے اورارشاد احمد لون جنہیں 7 جولائی کو براہ راست اور بلاجواز فائرنگ کرکے جاں بحق کیا تھا کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان غمزدہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد وہ گاسپور ہ وانپوہ پہنچے اور یہاں جاں بحق یاور احمد ڈار کے غم سے نڈھال خاندان سے ملاقات کی۔بیان کے مطابق اس کے بعدمحمد یاسین ملک اور اراکین وفد نے براکپورہ اسلام آباد (اننت ناگ) کا دورہ کیا اورجاں بحق شیراز احمد کے خاندان سے ملاقات کی، جو عید کے روز (16 جون، ) کو فورسز کی کشمیر و مسلم دشمنی کا نشانہ بنے تھے۔محمد یاسین ملک نے یہاں بھی غمگین خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد جے ایل ایل ایف چیئرمین نوشہرہ سری گفوارہ بجبہاڑہ تشریف لے گئے اور یہاںمعصوم محمد یوسف راتھرکے تباہ حال خاندان سے ملاقات کی جسے فوج نے اسکی بیوی کے ہمراہ اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنایا جس سے وہ خود جاں بحق جبکہ انکی بیوی زخمی ہوگئیں تھیں اور ابھی تک زیر علاج ہیں۔ فرنٹ چیئرمین اس علاقے کے دوسرے متاثرین سے بھی ملے کہ جن کے رہائشی مکانات کو فورسز نے اپنی بمباری یا آتش زنی کا نشانہ بناکر مسمار کررکھا ہے اور یوں کئی کنبوں کو کھلے آسمان تلے لاکھڑا کیا ہے۔ما قبل جے ایل ایل ایف کے چیئرمین ملک اننت ناگ( اسلام آباد )گئے جہاں انہوں نے معروف حریت پسند قائد مختار احمد صوفی کے والد گرامی قدر خواجہ غلام محمدصوفی کے انتقال پر پر انکے غم زدہ خاندان کے ساتھ کی تعزیت کا اظہار کیا۔ فرنٹ چیئرمین نے مرحوم کے لواحقین کی ڈھارس بندھائی اور انکے لئے جنت نشینی کی دعا کرتے ہوئے انکے لواحقین کیلئے صبر جمیل و جزیل کی برمحل دعائیں کیں۔متاثرین کی دلجوئی اور تعزیت پرسی کے بعد فرنٹ چیئرمین اور دوسرے اراکین وفد سرینگر کی جانب واپس ہورہے تھے کہ سنگم کے نزدیک پولیس نے ان کی گاڑی کو روک کو اسکا گھیرائو کرلیا۔ پولئس نے آناً فاناً یاسین صاحب اور دوسرے اراکین وفد کو گرفتار کیا اور انہیں پولیس اسٹیشن سنگم میں مقید کردیا۔ لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے ان بلاجواز اور آئے روز کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گرفتاریوں، پابندیاں اور دیگر ظالمانہ اقدامات اصل میں ہندوستانی حکمرانوں کی جمہوریت مخالف سوچ کے آئینہ دار ہیں اور اسکی ایک واضح مثال ہیںجس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
