سری نگر:١٥،جولائی:/ حریت (گ) نے کہا ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی ’این آئی اے ‘ کی مہم جوئی اور صحافی کی دلی طلبی اخبارات پر درپردہ سینسر شپ نافذکرنے کی ایک سازش ہے۔کے این این کو موصولہ تحریری بیان کے مطابق حریت ترجمان نے بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے (NIA)کی طرف سے جموں کشمیر میں خیالات کی آزادی کو پامال کرنے کی عامرانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معروف اخبار کشمیر ابزرور کے عاقب جاوید کو دہلی طلب کرنا یہاں کی صحافتی برادری کو مرعوب وخوفزدہ کرکے اخبارات پر درپردہ سینسر شپ نافذکرنے کی ایک سازش ہے۔ ترجمان نے جمہوریت کے ایک اہم ترین ستون صحافت پر این آئی اے کی یلغار سے خاموش کرنے کی مذموم کارروائی سے یہاں کی رہی سہی جمہوری اور سیاسی آزادی جوکہ نہ ہونے کے برابر ہے کو سلب کرتے ہوئے بدترین قسم کی ایمر جنسی نافز کرنے کے مترادف ہے۔ ترجمان نے این آئی اے کی طرف سے جموں کشمیر کی ایک معروف اور سینئر حریت پسند خاتون راہنما سیدہ آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھی راہنماؤں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نصرین کو ایک فرضی اور بے بنیاد کیس میں ملوث کرکے عاقب جاوید جیسے صحافی کو گرفتار کرنا کسی گہری سازش کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ ترجمان نے این آئی اے کی طرف سے سیاسی انتقام گیری کے تحت گرفتار کئے گئے سینئر حریت پسند راہنماؤں شبیر احمد شاہ، پیر سیف اللہ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، ظہور احمد وٹالی، محمد اسلم وانی کو تہاڑ جیل میں مناسب طبی سہولیات اور دیگر ضروریات زندگی سے محروم رکھنا قیدیوں سے متعلق انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان حریت پسند راہنماؤں اور عام شہریوں کے صبرواستقلال کو خراج تحسین ادا کیا۔ ترجمان نے بھارت کے فرقہ پرست ارباب اقتدار کی طرف سے اپنی انٹلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے بے بنیاد اور فرضی مقدمات اختراع کرکے سیاسی راہنماؤں اور عام شہریوں کو مدت دراز تک قیدوبند کی صعوبتوں میں مبتلا کئے جانے کے لیے انصاف کے عدالتی دروازوں کو بند کرنے کی ظالمانہ کارروائیوں کا سنگین نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے اس ضمن میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
You Might Also Like
راجن نندا کا انتقال
1 Min Read

