ساڑھے3سال تک ایجنڈا آف الائنس کے نام پر عوام کو گمراہ کیا گیا
سرینگر/10جنوری: / پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے اس اعتراف کہ انہوںنے اپنی پارٹی کو تتر بتر ہونے سے بچانے کیلئے مجبوراً بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا،سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ قلم دوات جماعت کا مقصدعوامی کی فلاح و بہبود اور ریاست کی تعمیر و ترقی نہیں بلکہ ذاتی مفاد تھا اور یہ جماعت ساڑھے3سال تک ایجنڈا آف الائنس کے نام پر عوام کو گمراہ کرتی رہی۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے اس اعتراف سے یہ بات بھی عیاں ہوگئی ہے کہ موصوفہ نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے ریاست کو افراتفری، بے چینی اور غیریقینیت کے بھنور میں دھکیلا دیا۔ پی ڈی پی کی اس خودغرضی سے کشمیر میں گذشتہ4سال سے خون بہہ رہا ہے اور آج بھی یہاں کے لوگ اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرتے وقت محبوبہ مفتی کہتی تھی کہ انہوں نے جموںوکشمیر کے مفادات کیلئے بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا اور آج یہ بیان دے رہی ہیں کہ انہوں نے پارٹی بچانے کیلئے بی جے پی کیساتھ حکومت سازی کی۔ کل تک پی ڈی پی والے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کو مقدس قرار دیتے تھے اور محبوبہ مفتی اس اتحاد کو مرحوم مفتی محمد سعید کی دور اندیشی ،سیاسی بالغ النظری اور ’مفتی صاحب خواب ‘قرار دیتی تھیں لیکن اقتدار سے بے عزیتی کیساتھ بے دخل کئے جانے کے بعد سب کچھ جیسے بدل گیا۔ جو محبوبہ مفتی کل تک بھاجپا اور مودی کی قصیدہ گوئی کا کوئی بھی موقع نہیں گنواتی تھی وہی محبوبہ مفتی آج ہر سٹیج اور ہر جگہ بھاجپا نکتہ چینی کرتی نظر آرہی ہیں۔ ’نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم، نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے ‘ کے مترادف بھاجپا کیساتھ اتحاد کرکے محبوبہ مفتی نہ تو پارٹی ہی بچا پائی اورنہ ہی حکومت کرسکیں اور آج موصوفہ اپنی بچی کچھی ساکھ بچائے رکھنے کیلئے ہوا میں تیرا مار رہی ہیں۔ محبوبہ مفتی کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے صاف لگایا جاسکتا ہے کہ موصوفہ آج اُنہی لوگوں کو ’گندگی ‘ قرار رہی ہے، جو کل تک اُن کے شانہ بہ شانہ تھے۔

