چیف سیکرٹری نے برف ہٹانے کے اقدامات کا جائزہ لیا

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/جموں //   چیف سیکرٹری بی بی وِیاس نے آج سرینگر۔ جموں قومی شاہراہ کا دورہ کر کے وہاں ذاتی طور پر برف ہٹانے کے انتظامات ، ڈیزاسٹر تیاری اور دیگر اقدامات کا جائز ہ لیا۔
داخلہ سیکرٹری آر کے گوئیل ، ڈی جی پی ڈاکٹر ایس پی وید ، ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر احمد خان، ڈی سی اننت ناگ محمد یونس ملک کے علاوہ کئی دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اننت ناگ میں چیف سیکرٹری نے میکنیکل ڈویژن کھنہ بل کا دورہ کر کے برف ہٹانے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
اننت ناگ کے ضلع ترقیاتی کمشنر چیف سیکرٹری کو جانکاری دی کہ چالو حالت میں 19مشینوں کو مکنیکل ڈویژن کھنہ بل میں دستیاب رکھا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں افرادی قوت کو بھی متحرک کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سنگم ، پہلگام ، ڈورو اور کوکر ناگ میں مشینوں کو تعینات کیا گیا ہے ۔
چیف سیکرٹر کوی جانکاری دی گئی کہ کھنہ بل میں دن رات کام کرنے والے ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے ۔
چیف سیکرٹری نے کھنہ بل میں سول ڈیفنس لائنز کا بھی دورہ کیا اور وہاں ایس ڈی آر ایف کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ایس ڈی آر ایف کے پاس افرادی قوت اور مشینری کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ انہوں نے تحصیل اور دیہی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ لوگوں کے مسائل حل کئے جاسکیں۔
ضلع پولیس لائن اننت ناگ میں جے سی آر کا دورہ کرنے کے دوران چیف سیکرٹری نے ضلع ترقیاتی کمشنر سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مختلف محکموں کے نمائندے اس کنٹرول روم میں موجود رہیں۔
جواہر ٹنل پر بی بی ویاس کو جانکاری دی گئی کہ مختلف مقامات پر 94رہائشی شیڈ قائم کئے جاچکے ہیں جہاں راشن کے علاوہ دیگر سہولیات بھی دستیاب رہےں گی۔علاوہ ازیں قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر طبی سہولیات کا بھی انتظامات رکھا گیا ہے ۔
چیف سیکرٹری نے نئی قاضی ۔ بانہال سڑک ٹنل کے کام کا بھی معائینہ کیا۔ انہوں نے عمل آوری ایجنسی سے کہا کہ وہ 8.45کلومیٹر لمبی اس ٹنل کے کام میں تیزی لائیں ۔
چیف سیکرٹری نے رام بن اور دیگر مقامات پر سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے