سرینگرماگام بڈگام میں دس سال قبل ڈگری کالج کے قیام کے حق میں ایجی ٹیشن کے دوران فورسز کی فائرنگ سے اپنی جان گنوانے والے نوجوان کی دسویں برسی کے موقعے پرجمعہ کو مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران نوجوان کے حق میں اجتماعی فاتحہ خوانی کا اہتمام بھی کیا گیا۔ سال2007میںوسطی ضلع بڈگام کے ماگام قصبے میں گورنمنٹ ڈگری کالج کے قیام کو لیکر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس نے بعد میں پر تشدد رخ اختیار کیا۔اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر شدید نوعیت کی جھڑپیں ہوئیں اور پولیس و فورسز کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بھی کیا گیا۔جب بھیانک تشدد کی لہر مختلف علاقوں میں پھیل گئی تو آج ہی کے روز یعنی15دسمبر 2007کو فورسز نے مظاہرین پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں ظہور احمد میر نامی ایک نوجوان گولی کی زد میں آکر جاں بحق ہوا۔تاہم بعد میں بیروہ میں ڈگری کالج کا قیام عمل میں لایا گیا۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق جمعہ کوظہورکی دسویں برسی کے موقعے پرماگام قصبہ اور دیگر ملحقہ علاقہ جات میں مکمل ہڑتال کی گئی۔حالانکہ ہڑتال کی کسی نے کال نہیں دی تھی لیکن اس کے باوجود علاقے میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہنے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی معطل رہی۔اس دوران ظہور کے مقبرے پر دعائیہ مجالس کا سلسلہ صبح سویرے شروع ہونے کے بعد دن بھر جاری رہا جبکہ اس کے حق میں اجتماعی فاتحہ خوانی کا اہتمام بھی کیا گیا۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے باسط کے گھر جاکر اس کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔نماز جمعہ کے بعد ظہور کی یاد میں امام بارگاہ یاری گنڈ میں ایک بہت بڑا اجتماع منعقد ہوا جس میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی اور اس موقعے پرمرحوم نوجوان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

