نوجوان کی دو مرتبہ نماز جنازہ ادا۔ فتح کدل اور عید گاہ میں سوگوران پر بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ اور پلیٹ فائرنگ درجنوں زخمی
سرینگر؍02؍جون؍ جے کے این ایس ؍ نوہٹہ میں سی آر پی ایف گاڑی کی زد میں آنے والے نوجوان کی موت واقع ہونے کے بعد شہر خاص اُبل پڑا۔ نوجوان کی فتح کدل اور عید گاہ میں دو مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ فتح کدل اور عید گاہ میں سوگوارن پر بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ اور پلیٹ فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک کو اسپتال منتقل کرناپڑا۔ کرفیو کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ عید گاہ اور فتح کدل پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ادھر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے شہر خاص کے چھ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں انتظامیہ نے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا تھا اور کسی کو بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی ۔ جے کے این ایس کے مطابق سی آر پی ایف گاڑی کی زد میں آنے والا نوجوان قیصر احمد بٹ ساکنہ فتح کدل حال ڈلگیٹ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں درمیانی رات کو زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ۔ معلوم ہوا ہے کہ درمیانی رات کو نوجوان کی میت ڈلگیٹ پہنچائی گئی تاہم وہاں سے اُس کو آبائی علاقے فتح کدل پہنچایا گیا اور رات بھر فتح کدل میں احتجاجی مظاہروں کی گونج سنائی دی۔ نمائندے کے مطابق سنیچر گیارہ بجے کے قریب نوجوان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ جونہی جلوس میں شامل شرکاء نے میت کو کاندھوں پر اُٹھا کر عید گاہ کی طرف پیش قدمی شروع کی پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز نے سوگوارن پر بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ اور پلیٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جلوس میں افرا تفری پھیل گئی اور درجنوں افراد خون میں لت پت ہوئے ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں نے سوگوارن پر راست پلیٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی بزرگوں کو بھی پلیٹ چھرے لگے ۔ معلوم ہوا ہے کہ فتح کدل چوک میں سوگوران پر بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ کے بعد نوجوان کی میت کو ٹرک میں بٹھایا گیا اس دوران راستے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ نمائندے کے مطابق عید گاہ سرینگر میں پہلے سے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے اور جونہی میت وہاں پہنچائی گئی تو لوگوں کے اسرار پر ایک اور نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ نوجوان کی آخری رسومات ادا کرنے کے ساتھ ہی عید گاہ کے نزدیک مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان آمنا سامنا ہوا جس کے ساتھ ہی پورا علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوا۔ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے یہاں پر بھی ٹیر گیس شلنگ کے ساتھ ساتھ پلیٹ چھروں کا بے تحاشہ استعمال کیا جس کی وجہ سے کئی افراد کو چوٹیں آئیں جن میں سے تین کو اسپتال منتقل کرناپڑا۔ نمائندے نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے مرچی گیس کا بھی استعمال کیا جس کی وجہ سے آس پاس علاقوں کے رہائش پذیر لوگوں کو سانس لینے میں دشواریوں کا سامنا کرناپڑا۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی اور مظاہرین کے درمیان وقفے وقفے سے پتھراو اور جوابی پتھراو کا سلسلہ جاری رہا۔ نمائندے نے بتایا کہ عید گاہ اور فتح کدل میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ پلیٹ چھرے استعمال کرنے کے باعث کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔ دریں اثنا انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے شہر خاص میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا جس کے نتیجے میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ نمائندے کے مطابق شہر خاص کے نوہٹہ ، خانیار ، رعناواری ، مہاراج گنج، صفا کدل ، کرالہ کھڈ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین پابندی عائدرہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ نوہٹہ اور گوجوارہ میں لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ کئی ایک راہگیروں کی بھی سی آر پی ایف اہلکاروں نے ہڈی پسلی ایک کردی۔
