سرینگر:سوپور میں نا معلوم بندوق برداروں کی طرف سے عارف احمد صوفی نامی نوجوان کی ہلاکت پر اے آئی پی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ نا ہی کسی کے مذمت کرنے سے کسی کی بھی جان واپس آ سکتی ہے اور نہ ہی انسانی جانوں کی ہلاکتیں کسی مسئلہ کا علاج ہیں ۔
پارٹی ترجمان ایڈوکیٹ ماجد بانڈے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جہاں چاروں طرف بندوق کا خوف ہو وہاں کسی کے بھی مذمت کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن عوام کو یہ جاننے کا بھر پور حق حاصل ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بر سرپیکار طاقتوں سے اصلیت پوچھیں ۔ ترجمان نے کہا ”جہاں پولیس متعلقہ ہلاکت کی ذمہ داری عسکری تنظیموں پر عائد کرتی ہے وہاں عسکری تنظیموں پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ اپنا موقف واضح کریں ۔
بیان کے مطابق” اگر واقعی کسی عسکری تنطیم کا عارف کی ہلاکت میں ہاتھ ہے تو انہیں دیانتداری سے لوگوں کو حقیقت بتانی چاہئے اور اگر وہ مذکورہ واردات میں ملوث نہیں ہیں تو بھی عوام کو اصل حقیقت سے آشناس کرانا ضروری ہے “۔
ترجمان نے مذید کہا کہ یہ بات عیا ں ہے کہ عسکری تنظیموں کو پولیس اور فوج کے مقابلے میں عام لوگوں کی بے پناہ حمایت حاصل ہے کیونکہ وہ اسی مقصد کیلئے لڑنے کے دعویدار ہیں جس کیلئے اہل کشمیر بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں لہذا ضروری ہے کہ عوام کے جزبات کا خیال رکھ کر غلط فہمیوں اور انتشار سے بچا جائے۔
ترجمان نے مذکورہ ہلاکت پر آنسو بہانے والے مین اسٹریم سیاستدانوں سے کہا کہ اگر وہ واقعی سنجیدہ ہیں کہ خون ناحق سے ارض کشمیر لالہ زار نہ ہو تو پھر انہیں سنجیدہ ہو کر کشمیر مسئلہ کے حل کیلئے سامنے آنا ہوگا ورنہ اُن کے روایتی بیانات کا زمینی سطح پر کوئی فائدہ نہیں۔

