طبی خدمات کیلئے مختص فنڈس میں مبینہ بے ضابطگیاں ،کچھ تشخیصی مراکز سر بمہر

بانڈی پورہ:طبی خدمات کیلئے مختص فنڈس میں مبینہ بے ضابطگیوں کی پاداش میں بلاک میڈیکل اآفیسربانڈی پورہ کوصوبائی دفترکیساتھ منسلک کردیاگیا۔غورطلب ہے کہ یہ بانڈی پورہ ضلع میں پچھلے آٹھ ماہ کے دوران چوتھے بی ایم اﺅکاتبادلہ ہے جبکہ ضلع میں چیف میڈیکل آفیسرکی کرسی پربیک وقت2سی ایم اوﺅزبراجمان ہونے کی وجہ سے پہلے ہی ضلع میں صحت عامہ سے متعلق خدمات اورسرکاری صحت مراکزکے نظم ونسق پرمنفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔کشمیرنیوزسروس کومعلوم ہواکہ ضلع بانڈی پورہ کے مختلف علاقوں میں واقع سرکاری صحت مراکزبشمول ضلع اسپتال بانڈی پورہ میں مختلف لازمی طبی خدمات بہم رکھنے کیلئے مخصوص فنڈس کے غلط استعمال اورکچھ مالی بے ضابطگیوں کی پاداش میں بلاک میڈیکل آفیسربانڈی پورہ کومحکمہ صحت کے صوبائی ہیڈکوارٹرکیساتھ منسلکAttachکردیاگیا۔محکمہ صحت کے ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ضلع بانڈی پورہ میں قائم سرکاری شفاخانوں میں دستیاب رہنے والے اسپتال ڈیولپمنٹ یاترقیاتی فنڈ س کوغلط طورہرزیرتصرف لانے کے بارے میں شکایات موصول ہونے کے بعدڈائریکٹرہیلت سروسزکشمیرڈاکٹرسلیم الرحمان نے بی ایم اﺅبانڈی پورہ ڈاکٹرمست اقبال کوعہدے سے ہٹاکرصوبائی دفترواقع سینگرکیساتھ منسلک کردیا،اوراس سلسلے میں ایک حکمنامہ بھی جاری کیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق ناظم صحت کشمیرکوایسی شکایات ملی ہیں ،جن کی رﺅسے ضلع بانڈی پورہ میں اسپتال ترقیاتی فنڈکیساتھ ساتھ مختلف طبی خدمات کیلئے مختص رقومات کابھی غلط استعمال کیاجارہاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ بی ایم اﺅبانڈی پورہ کواٹیچ کرنے کیساتھ ہی ناظم صحت کشمیرنے مختلف نوعیت کے فنڈس کے تصرف میں مبینہ بے ضابطگیوں اوربدعنوانیوں کی تحقیقات کے احکامات بھی صادرکردئیے ہیں ۔غورطلب ہے کہ پچھلے لگ بھگ8ماہ کے دوران چوتھی مرتبہ ضلع بانڈی پورہ میں بلاک میڈیکل آفیسرکوتبدیل یااٹیچ کیاگیاہے جبکہ ضلع میں چیف میڈیکل آفیسرکی کرسی پربیک وقت2سی ایم اوﺅزبراجمان ہونے کی وجہ سے پہلے ہی ضلع میں صحت عامہ سے متعلق خدمات اورسرکاری صحت مراکزکے نظم ونسق پرمنفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔

کپوارہ: محکمہ صحت نے کپوارہ مےں قائم 2نجی اسپتالوں کے کچھ تشخےصی مراکز کو سر بمہر کر دےا۔اس دوران ناظم صحت ڈاکٹر سلےم الر حمان نے کپوارہ کے دو اسپتالوں کے تشخےصی مرا کزوں کو سر بمہر کر نے کی تصدےق کر تے ہوئے واضح کےا کہ محکمہ صحت کا قائم کر دہ ٹاسک فورس نجی اسپتالوں مےںمعمول کی چےکنگ جاری رکھے گا اور جہاں کہےں بھی قانون کی خلاف ورزی ےا ناقص سہولےات مےسر ہونگی ان کے خلاف سخت کاروائی عمل مےں لائی جائے گی۔کشمےر نےوز سروس کے مطابق محکمہ صحت نے کپوارہ مےں قائم 2نجی اسپتالوں کالوٹی کےئر اسپتال اور اےس بی اسپتال مےں قائم کئی تشخےصی مراکز کو سر بمہر کےا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ محکمہ صحت کے قائم کر دہ ٹاسک فورس جس مےں ڈا کٹر جی اے وانی ،ڈاکٹر زاکر خان،ڈاکٹر عبدالحمےد اور چےف مےڈےکل افسر کپوارہ شامل تھے نے کپوارہ مےں کام کر رہے نجی اسپتال کا لوٹی کےئر کا معائنہ کےا اور اس دوران انہوں نے وہاں پر اےسرے،ےو اےس جیاور انڈاس کو پی سےکشن کو سر بمہر کر دےا ۔مذکورہ ٹےم نے اس دوران اےک دوسرے اسپتال اےس بی کی بھی چےکنگ کی جس کے دوران اس اسپتال کا لےبارٹری سےکشن سر بمہر کےا گےا ۔ناظم صحت کشمےر ڈاکٹر سلےم الرحمان نے معاملے کی تصدےو کر تے ہو ئے کہا کہ محکمہ صحت کا قائم کر دہ ٹاسک فورس معمول کی چےکنگ جاری رکھے گا و اور جس کسی کو بھی خلاف ور زی کا مر تکب پاےا جائے گا ان کے خلاف سخت کاروائی عمل مےں لائی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کے متمنی ہے کہ لوگوں کو بہتر سے بہتر طبی سہولےات مےسر رکھی جائےں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے