سرینگر:جنوبی کشمیر کے دو اضلاع شوپیان اور پلوامہ میں شہری اور دو جنگجوﺅں کی ہلاکت پر تعزیتی ہڑتال رہی ۔دونوں اضلاع میں ہڑتال سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔یاد رہے کہ بدھ کو شوپیان میں جنگجومخالف فوجی آپریشن کے دوران فورسز کی فائرنگ میں ایک نوجوان جاں بحق اور دیگر افراد زخمی ہوئے جبکہ خونین معرکہ آرائی میں حزب المجاہدین کے دو مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے ۔
جنوبی کشمیر کے دو اضلاع شوپیان اور پلوامہ کے جڑواں قصبوں کے ساتھ ساتھ بیشتر علاقوں میں شہری اور جنگجوﺅں کی ہلاکت پر تعزیتی ہڑتال رہی ۔اگر چہ ہڑتال کی کال مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے نہیں دی گئی تھی ،تاہم علاقائی سطح بغیر ہڑتال کال سے یہاں معمولات زندگی متاثر ہوئے ۔
دونوں اضلاع میں دکانیں ،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔حساس علاقوں میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی جبکہ جنوبی کشمیر میں احتیاطی طور پر ریل سروس معطل رکھی گئی ۔
یاد رہے کہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں بدھ کی سہ پہر کو سرکاری فورسز نے ایک چھاپہ مار کارروائی میں حزب المجاہدین کے دو جنگجووں جاں بحق ہوئے تھے جبکہ انکی کمین گاہ بنے مکان کو زمین بوس کردیا گیا تھا۔اس دوران جنگجووں کے بچاﺅ میں آئے لوگوں پر مبینہ طور پرفائرنگ کرکے سرکاری فورسز نے ایک کمسن لڑکے کو ازجان کردیا تھا جبکہجنگجووں میں سے ایک کی ہمشیرہ سمیت دو لڑکیوں کو شدید زخمی کردیا جنکا سرینگر کے ایک اسپتال میں علاج جاری ہے۔
ضلع ہیڈکوارٹر سے قریب بارہ کلومیٹر دور ڑھئے گنڈ۔آڈو نامی گاﺅں میں عبدلا لطیف وانی نامی شہری کے گھر کو سہ پہر چار بجے کے قریب سرکاری فورسز نے،یہاں دو جنگجووں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر،گھیر لیا تھا اور پھر مکان پر اندھادند فائرنگ کی گئی۔ چناچہ مکان میں موجود جنگجووں ،جنکی شناخت اسی گاﺅں کے سمیر احمد اور گناو پورہ کے فردوس احمد کے بطور ہوئی ہے،نے جواب میں گولی چلائی اور یوں ایک خونریز جھڑپ شروع ہوگئی تھی۔
کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس جھڑپ کا اختتام مذکورہ مکان کو بارودی گولوں سے اڑاکر زمین بوس کئے جانے پر ہوا۔ جیسا کہ پولس کا کہنا ہے ملبے سے دو لاشیں برآمد کی گئی ہیں اور ان دونوں جنگجووں کا تعلق حزب المجاہدین سے تھا اور وہ کچھ عرصہ پہلے ہی جنگجو بن چکے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں نے گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ہی جمع ہوکر جنگجووں کی کمین گاہ کی طرف جانے کی کوشش کی تاکہ انہیں فرار ہونے میں مدد کرتے،جیسا کہ وادی میں اب معمول بن چکا ہے،تاہم فورسز نے پہلے ہی گھیرا سخت کرکے فرار کے سبھی راستے بند کئے ہوئے تھے۔ لوگوں کی اس کوشش میں تاہم اسوقت شاکر احمد نامی ایک نابالغ لڑکے کی موت ہوئی کہ جب فورسز نے ان پر راست فائرنگ کی۔
فائرنگ میں دو لڑکیاں شدید زخمی ہوگئی ہیں جن میں سے ایک مارے گئے جنگجو کی ہمشیرہ بتائی جاتی ہیں۔پولس کا کہنا ہے کہ دونوں کی حالت مستحکم ہے۔ پویس کے ایک ترجمان نے بتایا ”جنگجووں کی اندھادند فائرنگ اور جوابی فائرنگ میں شاکر احمد میر مارا گیا جبکہ دو خواتین،سبرینہ جان اور سمی جان، ساکنانِ کیگام شوپیاں زخمی ہوگئیں۔ان دونوں کو ایس ایم ایچ ایس اسپتال لیجایا گیا تھا جہاں سے ا±نہیں مخصوصعلاج و معالجہ کیلئے سکمز صورہ منتقل کیا گیا ہے“۔
علاقے میں حالات کشیدہ ہے یہاں تک کہ سرکاری انتظامیہ نے انٹرنیٹ کی سروس بند کردی ہے اور جنوبی کشمیر سے گذرنے والی ریل سروس کو بھی روک دیا گیا ہے۔

