سرینگر: وادی کشمیر میں ہرگزرتے دن کے ساتھ سردیوںکے بادشاہ ’چلہ کلان ‘ کے تیور سخت سے سخت تر ہوتے جارہے ہیں ۔ سری نگر میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات رواں موسم سرما کی سرد ترین رات ثابت ہوئی کیو نکہ یہاں کا کم ازکم درجہ حرارت منفی4.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ 48درجہ حرارت میں مزید گراﺅٹ کا اندیشہ ہے ۔ادھر موسمی تبدیلی کے باعث پیر کی صبح اہلیان کشمیر کو شدید ترین دھند کا سامنا رہا اور تجارتی مرکز لالچوک سمیت کئی ہلاکتوں میں صبح 7بجے سے لیکرساڑھے8بجے تک حد نگاہ صفر کے برابر تھی ۔گاڑیوں اور دو پہیہ سواریوں نے حادثات سے بچنے کےلئے’ ہیڈلائٹس آن‘ رکھی تھی ۔تاہم دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ سورج کی سنہری کرنوں سے وادی کے نظارے مزید دلفریب ہوئے ۔اس دوران منفی درجہ حرارت میں مزید گراﺅٹ ریکارڈ کرنے سے پانی کی سپلائی بھی منجمد ہوئی ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات سیزن کی سرد ترین ثابت ہوئی ۔موسمیاتی ماہرین نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ گرمائی راجدھانی سری نگر میں کم ازکم درجہ حرارت منفی4.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔محکمہ موسمیات کے ایک افسر نے بتایا کہ اگلے48گھنٹوں کے دوران وادی کشمیر اور خطہ لداخ میں رات کے درجہ حرارت میں مزید گراﺅٹ آسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ دو روز تک مجموعی طور پر موسم خشک رہنے کا امکان ہے ۔
معروف سیاحتی مقام اور برف پوش وادی¿ گلمرگ میں اتوار اور پیر کی رات کا درجہ حرارت منفی7.2ڈگری جبکہ مشہور صحت افزاءمقام پہلگام میں کم ازکم درجہ حرارت منفی6.5ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔گیٹ وے آف کشمیر میں رات کا درجہ حرارت منفی3.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔خطہ لداخ ریاست کا سرد ترین خطہ بناہوا ہے ۔موسمیاتی ماہرین کے مطابق خطہ لداخ کے لہیہ علاقے میں رات کا درجہ حرارت منفی8.1ڈگری اور کرگل علاقے میں منفی7.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔
ادھر خطہ جموں میں بھی رات کے درجہ حرارت میں گزشتہ دنوں کے مقابلے میں گراﺅٹ ریکارڈ کی گئی ۔جموں میں کم ازکم درجہ حرارت6.4ڈگری،کٹرا میں7.6ڈگری،بٹوت میں کم ازکم درجہ حرارت5.1 ڈگری ،بانہال میں5.4ڈگری اور بھدرواہ میں کم ازکم درجہ حرارت1.9ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ ادھمپور میں رات کا درجہ حرارت 4.7ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔
اس دوران پیر کی صبح اہلیان کشمیر کو شدید ترین دھند کا سامنا رہا۔موسمی تبدیلیوں اور سردی کی شدت کے ساتھ ہی دھندنے شہر سرینگر پر قبضہ جما لیا ہے جب کہ دھند کے باعث شہرمیں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔سرینگر سمیت وادی کے مختلف اضلاع میں صبح کے وقت شدید دھندسے لوگوں کو کافی مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ۔ تجارتی مرکز لالچوک سمیت کئی علاقوںمیں صبح 7بجے سے لیکرساڑھے8بجے تک حد نگاہ صفر کے برابر تھی ۔گاڑیوں اور دو پہیہ سواریوں نے حادثات سے بچنے کےلئے’ ہیڈلائٹس آن‘ رکھی تھی ۔ادھر اطلاعات کے مطابق سرینگر کے بین الاقوامی اڈے کے گرد ونواح میں دھند کا کوئی اثر نہیں دیکھنے کو ملا اور پروازوں نے وقت پر اُڑانیں بھریں جبکہ دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ سورج کی سنہری کرنوں سے وادی کے نظارے مزید دلفریب ہوئے ۔
دریں اثناءرات کے درجہ حرارت میں آرہی مسلسل گراﺅٹ کے باعث جہاں آبی ذخائر کی اُوپری سطح پر یخ میں تبدیل ہورہی ہے ،وہیں پانی کی پائیپیں بھی منجمد ہورہی ہے۔شہر سرینگر سمیت وادی کے کئی علاقوں سے لوگوں نے شکایا ت کیں ،کہ پانی کی پائپیں میں یخ لگنے سے پانی کی سپلائی بھی منجمد ہو کر رہ گئی ،جسکی وجہ اُنہیں مشکلات کا سامنا رہا۔

