عوام نے ماضی میں آر ایس ایس کے ایجنٹوں کو رد کیا ، آئندہ بھی مسترد کرینگے
سرینگر/یکم جنوری : سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے جموںوکشمیر کو تعمیر و ترقی کے لحاظ سے کم از کم ایک دہائی پیچھے دھکیل دیا، یہ دونوں جماعتیں اقتدار میں رہ کر اقرباپروری، اقربانوازی، کورپشن، چور دروازے سے بھرتیوں اور کشمیر دشمن کاموں میں مصروف رہیں جبکہ عوام کیلئے کوئی بھی خاطر خواہ کام نہیں کیاگیا۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ان باتوںکا اظہار نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے آج شہر سرینگر کے لیڈران اور عہدیداران کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس، وسطی زون صدر علی محمد ڈار، ضلع صدر سرینگر پیر آفاق احمد، سنٹرل سکریٹری عرفان احمد شاہ، یوتھ صوبائی صدر سلمان علی ساگر، بلاک صدور صاحبان بھی موجودتھے۔ ناصراسلم وانی نے کہا کہ موجودہ بجلی بحران سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا ہی نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1947سے 2008تک ریاست 880میگاواٹ بجلی کی پیدوار کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی، سابق عمر عبداللہ حکومت نے 2014تک ریاست کو مزید 1750میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کیلئے کام کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بجلی کی کٹوتی پر اپوزیشن میں رہ کر سب سے زیادہ شور مچانے والے پی ڈی پی والوں نے اپنے دورِ حکومت میں ایک بھی میگاواٹ بجلی کی پیداوار کیلئے قدم نہیں اُٹھایا۔ جس کی وجہ سے ریاست بجلی کے سیکٹر میں مزید پیچھے رہ گئی۔ پی ڈی پی نے 2002میں بھی اقتدارمیں آکر 6سال تک بجلی کی پیداوار کیلئے کچھ نہیں کیا تھا جبکہ 1996میں نیشنل کانفرنس کی حکومت معرض وجود آنے کے ساتھ ہی بغلہار 440میگاواٹ کا قیام عمل میں لایاگیا۔ناصر اسلم وانی نے کہا کہ سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے نہ صرف ریاست کو بجلی کے شعبے میں پیچھے دھکیلا بلکہ دیگر شعبوں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2008سے لیکر 2014تک نیشنل کانفرنس کی حکومت نے پرانی سڑکوں کو کشادہ کیا اور انہیں جہت بخشی اور ساتھ ہی نئی شاہرائوں کا قیام بھی عمل میں لایا۔ اس دوران جموںوکشمیر میں تعلیم کے فروغ کیلئے 2سنٹرل یونیورسٹیاں، 2یونیورسٹی کیمپس، 50کالج، 8500سکول، 50پالی ٹیکنکس، آئی ٹی ائیز قائم اپ گریڈ کئے گئے جبکہ 16475عمارتیں تعمیر کی گئیں۔اس کے علاوہ مرکزی سرکار سے کئی بڑے بڑے پروجیکٹ منظور کروائے گئے، جن میں میڈیکل کالج اور زوجیلا ٹنل قابل ذکر ہیں۔ ایسے ہی سابق عمر عبداللہ حکومت کے دوران یہاں کے صحت کے شعبہ میں ہمہ جہت ترقی دیکھی گئی، اس دوران ریاست میں نئے ہسپتالوں کا قیام عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ پرانے ہسپتالوں کی تجدید کی اور انہیں جدید ساز و سامان سے لیس کیا اور ساتھ ہی چھوٹے طبی مراکز کو بھی فعال بنایا۔ ایسے ہی تمام شعبوں میں کام کیا ، جو عوام کے سامنے آج بھی عیاںہے۔ ناصر اسلم وانی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت کے دوران ہی ریاست میں کورپشن کے خاتمے ، انتظامیہ کو جوابدہ بنانے اور سسٹم میں شفافیت لانے کیلئے حق اطلاعات قانونRTI اور پبلک سروس گارنٹی ایکٹ جیسے قوانین کو لوگو کیا اور ویجی لنس کمیشن کا قیام عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ احتساب کمیشن کو بھی قابل کار بنایا گیا۔صوبائی صدر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کا کوئی بھی متبادل نہیں ہوسکتا، وقت وقت پر آر ایس ایس اور دیگر بھگوا جماعتوں نے یہاں اپنے ایجنٹوں کو مختلف طریقوں سے پروجیکٹ کیا لیکن عوام نے انہیں ہر بار رد کیا اور اس بارے بھی مسترد کردیںگے۔

